مقبولیت
الرسالہ، مئی ۱۹۸۵، صفحہ ۴۰
اے خدا وند قوس جس قسم کے زمانے میں تو نے اس تبلیغ کے ذریعے اس کلمہ و نماز پر محنت کی ضرورت پیدا فرمادی اور اپنی راہ میں نکلنے کی توفیق دی..... اے رب کریم اپنے کرم سے سب کو قبول فرما لے اور ان سب کی ایسی تربیت فرما کہ یہ نقل دو حرکت تجھے پسند آجائے ..... اے اللہ درندوں کی اور اُڑدہوں کی قسم سے جتنے انسان اور درندے ہیں اور جن کو تجھے انسانیت سے نواز نا ہی نہیں ، اے خدا ایسے ایسوں کو چن چن کر ہلاک فرما۔ ایسوں کی زمینوں کو ، ان کے لیے پھاڑ دے ، ایسوں کے مکانوں کو ان پر توڑدے۔ ایسوں سے نعمتوں کو اپنی چھین لے ..... اے خدا لوٹ کھسوٹ کے ماحول کو ختم کر، ظلم وستم کے ماحول کو ختم کر، عدل و انصاف کے ماحول کو قائم کر، علم و ذکر کے ماحول کو قائم کر، خدمت خلق کے ماحول پیدا کر، تعاون و ہمدردی و محبت کے ماحول کو قائم کر..... اے اللہ ہماری دعاؤں کو اپنے فضل و کرم سے قبول فرما۔
مقبولیت
مولانا محمد یوسف صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو اپنی زندگی ہی میں غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی۔ ۔ بجنور کے ایک اجتماع کے مشاہد فرماتے ہیں " اس میں حضرت مولانا اپنے تمام رفقار کے ہمراہ تشریف لائے تھے ، عقیدت مندوں کے ہجوم نے بڑی دشواری پیدا کر دی ۔ ہر شخص چاہتا تھا کہ میں کسی نہ کسی طرح مولانا سے مصافحہ کرلوں ۔ انتظا ماً قیام گاہ پر بعض میواتیوں کا پہرہ لگا نا پڑا۔ پھر بھی قیام گاہ کے دروازہ کی چوکھٹ، داخلے کی بے محابا کوشش کرنے والے کی وجہ سے اکھڑ گئی ۔ جب مولانا قیام گاہ سے جلسہ گاہ میں تشریف لائے مجمع آپ کے گرد سمندر کی طرح موجیں مارتا ہوا نظر آتا۔ " مولانا ناسخ طریقت بھی تھے۔ بیعت چاروں سلسلوں میں اپنے والد ماجد صاحب کے واسطے سے کرتے تھے۔ ایک صاحب رائے ونڈ کا حال بیان کرتے ہیں " ایک کثیر مجمع نے بیعت کی ۔ بیعت کرنے والوں کے ہاتھوں میں پگڑیاں اور چادریں وغیرہ تھیں اور اتنا کثیر مجمع تھا کہ کئی حضرات مکبر کی طرح پکار پکار کر الفاظ بیعت کو بیعت کرنے والوں تک پہنچا رہے تھے ۔ عجیب دل کش منظر تھا۔ میرے ایک عزیز کہنے لگے کہ آج تو حضرت جی نے امام شہید سید احمد صاحب رائے بریلوی کی یاد تازہ کردی "۔
تقریر
مولانا کو تقریر کا عجیب و غریب ملکہ تھا جو کچھ وہی تھا اور کچھ ان کے دعوتی جذبے نے ان کے اندر پیدا کر دیا تھا۔ ایک عالم کے الفاظ میں آپ کی تقریروں کو سن کر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ "آپ کو اللہ