Al-Risala · May 1985 · page 21

ذوق علم

الرسالہ، مئی ۱۹۸۵، صفحہ ۲۱

کی طرف سے ایک علم عطا ہوا ہے جو مدرسہ اور کتب خانہ کا علم نہیں ہے)، اور اسی کا نام حکمت ہے اور قوت بیان مزید برآں ہے بعض قریبی لوگوں کا اندازہ ہے کہ آخر میں مجموعی طور پر آٹھ آٹھ گھنٹے تک بولنے کی نوبت آتی تھی۔ عجیب بات یہ ہے کہ سننے والے خواہ وہ جاہل ہوں یا عالم آپ کی تقریریں سننے سے گھبراتے نہیں تھے بلکہ پوری تقریر کے دوران ہمہ تن گوش بنے رہتے تھے۔ اور ایک کثیر تعداد کا یہ عالم ہوتا تھا کہ شدت پسندیدگی میں وہ کاغذ قلم لے کر اس کو دوران تقریر ہی میں نوٹ کرنا شروع کر دیتے تھے۔ آپ تقریر پر تقریر کرتے رہتے اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ہر بعد کی تقریر میں نے سننے والوں کو یہ اندازہ ہوتا کہ بولنے والا اسی وقت بولنے کھڑا ہوا ہے اور اس سے پہلے اس کو اپنے خیالات وجذبات کے اظہار کا موقع نہیں ملا تھا۔ اس موقع پر اپنا دل کھول کر رکھ دینا چاہتا ہے یہ ایک صاحب مولانا کے ایک سفر کی روداد بیان کرتے ہیں۔ ہر جگہ جہاں آپ کا جانا ہوا " صبح وشام گھنٹوں خطاب فرماتے رہے ۔ بولتے بولتے گلے میں سوجن پڑگئی۔ ڈاکٹروں نے اصرار سے مشورہ دیا کہ کچھ دنوں کے لیے بولنا چھوڑ دیا جائے ۔ مگر حضرت مولانا اس پر آمادہ نہیں ہوتے ۔ حسب عادت تقریروں اور گفتگوؤں کا سلسلہ جاری رہا اور مرض ترقی کرتا گیا ۔

تقریر کا انداز بھی عجیب تھا ۔ بات کرتے کرتے آستین چڑھاتے پھر اتارتے۔ بیٹھ کر تقریر شروع کرتے اور پھر درمیان میں کھڑے ہو جاتے ۔ کبھی درمیان کلام میں ایک آہ بھرتے جو درد اثر میں ڈوبی ہوئی عجیب کیفیت پیدا کردیتی۔ ایک صاحب فرماتے ہیں :

" حضرت جی گھنٹوں مسلسل بیان کرتے رہتے تھے بندہ نے خود ایک دن میں حضرت کے پانچ بیان سنے ہیں۔ جن میں سے ایک ساڑھے پانچ گھنٹے کا تھا۔ یہاں علوم اندر سے پھوٹ کر نکلتے تھے۔ صاف معلوم ہوتا تھا کہ آپ نہیں کہہ رہے ہیں کہلوایا جارہا ہے۔ علوم الہیہ کا فیضان موسلا دھار بارش کی طرح حضرت کے قلب پر ہوتا تھا "۔

ذوق علم

آپ کے علمی ذوق کے بارے میں آپ کے ایک قریبی واقف کار روایت کرتے ہیں کہ ایک بارمولانا نے فرمایا۔ " میں نے سوا ایک دفعہ کے بازار سے ایک آنہ کی بھی مٹھائی خرید کر نہیں کھائی یہ وجہ نہ تھی کہ میرے پاس پیسے نہ ہوتے تھے ، بلکہ بات یہ تھی کہ میں نے پیسے جمع کرنے کا ایک ڈبہ بنایا تھا اور اس میں جو پیسے مجھ کو ملتے ڈال دیا کرتا تھا کہ ان سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کی کتابیں خریدوں گا تعلیم کے زمانے میں مولانا انعام الحسن صاحب آپ کے ساتھی اور ہم سبق تھے۔ وہ روایت کرتے ہیں کہ

‹ Previous page Next page › Contents of May 1985 All issues

Printed page