ذوق علم
الرسالہ، مئی ۱۹۸۵، صفحہ ۴۲
"ہم دونوں نے آپس میں یہ طے کر لیا تھا کہ رات کے ابتدائی آدھے حصے میں ہم میں سے ایک مطالعہ کرے گا اور دوسرا سوئے گا۔ اور آدھی رات ہو جانے پر مطالعہ کرنے والا چائے بنائے گا اور دوسرے ساتھی کو اٹھاکر اور اس کے ساتھ چائے پی پلا کر سو جائے گا اور اسی دوسرے کے ذمہ ہوگا کہ فجر کی جماعت کے لیے سونے والے ساتھی کو اٹھائے۔ ایک دن مولانا مرحوم شروع رات میں مطالعہ کرتے تھے اور میں سوتا تھا، اور دوسرے دن برعکس ترتیب رہتی تھی ۔ "
بستی نظام الدین کی زندگی میں آپ کا معمول تھا کہ روزانہ ایک خاص وقت میں آپ اپنے مطالعہ کے کمرے میں چلے جاتے اور وہاں مقرر وقت تک مطالعہ اور تحریر کا سلسلہ جاری رہتا۔ زبان کسی تحریک کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ اپنی ایک زبان پیدا کرتی ہے۔ مولانا یوسف صاحب نے بھی تبلیغی تحریک کو ایک مخصوص زبان اور طرز ادا دیا جو اس طرح رائج ہوا کہ ہزاروں افراد کی زبان سے بے تکلف ادا ہونے لگا۔ مثلاً مسجد میں تبلیغی جماعت کا اجتماع ہورہا ہے اس میں شرکت کی دعوت دینی ہے تو اس طرح کہیں گے ۔ " بھائی مسجد میں کچھ فکر کی بات ہو رہی ہے، آؤ وہاں چلیں" مولانا یوسف صاحب ایک مکتوب میں لکھتے ہیں ۔ " جب محلوں کی مساجد میں ہفتوں کی دو گشتوں کے ذریعہ فی گھر ایک آدمی تین چلے کے لیے نکلنے کی آواز لگ رہی ہوگی۔ تعلیموں اور تسبیحات پر احباب جڑ رہے ہوں گے ۔ ہر مسجد سے تین دن کے لیے جماعتیں نکالنے کی کوششیں ہو رہی ہوں گی تو شب جمعہ کا اجتماع صحیح نہج پر ہوگا اور کام کے بڑھنے کی صورتیں بنیں گی ۔ مشورے سے ایسے احباب سے عموماً دعوت دلوائی جائے جو محنت کے میدان میں ہوں اور جن کی طبیعت پر کام کے تقاضے غالب ہوں بہت ہی فکر و اہتمام سے تشکیلیں کی جائیں۔ اگر اوقات وصول نہ ہوں تو رات کو بھی محنت کی جائے، رو رو کر مانگا جائے .... تمام انبیاء علیہم السلام اپنے اپنے زمانے میں کسی نہ کسی نقشہ کے مقابلہ پر آئے اور بتایا کہ کامیابی کا اس نقشہ سے کوئی تعلق نہیں ہے "
ایک اور مکتوب میں لکھتے ہیں " جزیرہ عرب کو دین حیات کے لیے جان پھیلانے کا مرکز قرار دے کر اس میں طریقہ جہد کے سیکھنے سکھانے کا رواج ڈال کر ہر طرف دین حیات کے لیے ٹھوکریں کھانے کے لیے مقامی احباب کے ساتھ مل کر روانہ کرنے کا رخ ڈالا جائے ..... تین تین چلہ کی حجم کر دعوت دیں ..... غریبلوکس مبرس طبقات میں کام کا ضرور پھیر ڈالیں "
اپنے شہر یا بستی کے قریب دیہات میں کام کی فضا بنے اس کے لیے ہر مسجد سے تین یوم کے لیے جماعتیں