Al-Risala · May 1985 · page 23

ادارۂ الرساله

الرسالہ، مئی ۱۹۸۵، صفحہ ۲۳

پانچ پانچ کوس کے علاقے میں جائیں “ ماہِ رمضان کے ایک مکتوب میں لکھتے ہیں: ” کیا ہی اچھا ہو کہ اس مبارک زمانہ میں تین تین چلوں کے لیے تشکیل کر کے جماعتیں روانہ کی جائیں تاکہ ارکانِ اسلام کی حیات والی محنت کا حساب اس ماہ میں قائم ہو۔ اور اس ماہ میں چلے کے لیے نکلنے کی برکت سے زیادہ وقت کے لیے اللہ رب العزت کے راستہ میں رواج پڑ جائے “۔

یہ نمونہ کے چند ٹکڑے ہیں ۔ اسی طرح مولانا نے ایک مستقل تبلیغی زبان پیدا کی جس کے اندر سادگی کے ساتھ گہرائی اور تحریکی شدت کے ساتھ مٹھاس کی عجیب و غریب آمیزش تھی ۔ آخر میں میں ایک واقعہ پر اس گفتگو کو ختم کروں گا ۔ ندوہ کے ایک عالم نے مجھ سے بیان کیا ایک جلسہ میں مولانا یوسف صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی تقریر ہو رہی تھی ۔ پورے مجمع پر سحر کن خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ مقرر حکمت و معرفت کی بارش برسارہا تھا۔ جناب مولانا سید ابوالحسن علی ندوی بھی اس جلسہ میں موجود تھے ۔ رادی کا بیان ہے کہ ایک موقع پر جب کہ تقریر اپنے عروج پر تھی ۔ مولانا کی زبان سے بے اختیار نکلا ـــــ ” اگر میں قسم کھاؤں تو میں حانث نہیں ہوں گا کہ اس وقت پورے عالم اسلام میں اس درجہ یقین و ایمان کے ساتھ بولنے والا کوئی دوسرا شخص موجود نہیں ہے “ (۱۳۸۹ھ)

اعلان

اوپر جو مضمون نقل کیا گیا ہے وہ تقریباً ۲۰ سال پہلے لکھا گیا تھا۔ اس طرح کے اور بھی کچھ قديم مضامین ہیں۔ ان تمام مضامین کا مجموعہ ایک کتاب کی صورت میں شائع ہو گیا ہے جس کا نام ”تبلیغی تحریک “ ہے۔ انشاءاللہ جلد ہی اس کا انگریزی ایڈیشن بھی شائع کیا جائے گا۔

ادارۂ الرساله

‹ Previous page Next page › Contents of May 1985 All issues

Printed page