Al-Risala · January 1985 · page 25

ایمان بڑھتا ہے

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۵، صفحہ ۲۵

ایمان بڑھتا ہے

ومن يقترف حسنة نزد له فيها حسناً اور جو شخص نیکی کرے گا ہم اس کے لئے اس کی (الشورى ۲۳) خوبی بڑھائیں گے۔

نیکی کرنے والے کی خوبی ہیں اضافہ کرنے کا مطلب کیا ہے۔ بعض مفسرین نے اس آیت کی تشریح میں لکھا ہے کہ نیکی کے ثواب میں سے یہ ہے کہ نیکی کے بعد نیکی کی توفیق حاصل ہو اور برائی کے بدلہ میں سے یہ ہے کہ برائی کے بعد آدمی کو اور برائی کا موقع دیا جائے (قال بعض السلف ان من ثواب الحسنة بعدها ومن جزاء السیئة السیئۃ بعدها، تفسیر ابن کثیر، الجزء الثالث صفحه ۱۱۴)

نیکی کرنا انسان جیسی مخلوق کے لئے ایک شعوری واقعہ ہے۔ آدمی جب ایک نیکی کرتا ہے تو وہ ایک برائی کو ارادی طور پر چھوڑتا ہے اور ایک نیکی کو ارادی طور پر اختیار کرتا ہے۔ اس طرح ایک حقیقی نیکی کرنے والا آدمی نیکی کرکے اپنے شعور اور ارادہ کو متحرک کرتا ہے۔ وہ اپنی نفسیات کو جگاتا ہے اور اپنی روح کے اندر آمادگی کی فضا پیدا کرتا ہے۔

اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر نیکی آدمی کو ایک نیا انسان بنا دیتی ہے۔ ہر نیکی کے بعد آدمی مزید اور نیکی کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ نیکی موجودہ دنیا میں ایک عمل ہے اور اسی کے ساتھ مزید عمل کا محرک بھی۔ دنیا میں ایک جمادات میں اور دوسرے نباتات۔ پھر ایک جا مد چیز ہے۔ وہ بس ایک حال میں پڑا رہتا ہے۔ اس کے برعکس درخت ایک نو پذیر چیز ہے۔ وہ برابر بڑھتا رہتا ہے۔ قرآن میں مومن اور ایمان کی مثال درخت سے دی گئی ہے ابراہیم ۲۴) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان کا معاملہ پتھر جیسا معاملہ نہیں ہے کہ بس ایک حالت پر پڑا رہے۔ وہ برابر بڑھتا رہتا ہے۔ اس پر کبھی ٹھہراؤ نہیں آتا۔ قرآن میں مختلف مقامات پر بتایا گیا ہے کہ ایمان ایک اضافہ پذیر حقیقت ہے۔ یہاں قرآن کے چند حوالے نقل کئے جاتے ہیں :

جب قرآن کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو مومنین کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے (الانفال (۲) خدا کے لئے قربانی کے مواقع دیکھ کر مومنین کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے (آل عمران (۱۷۳) اہل ایمان کے تقویٰ میں اضافہ ہوتا رہتا ہے (محمد، ۱)

ہدایت پانے والوں کی ہدایت برابر بڑھتی رہتی ہے (مریم ۷۶)

ایمان والوں کے خشوع میں اضافہ ہوتا ہے (الاسرار ۱۰۹)

‹ Previous page Next page › Contents of January 1985 All issues

Printed page