خدا کا فیضان
الرسالہ، جون ۱۹۸۵، صفحہ ۶
خدا کا فیضان
ہمارے گھر میں پہلے ایک میٹر بینڈ کا معمولی ٹرانسٹر تھا۔ وہ صرف دہلی ریڈیو اسٹیشن پکڑتا تھا۔ ہم اس سے دہلی کی خبریں سن لیتے تھے۔ مگر دوسرے ملکوں کی نشریات سننا اس کے ذریعہ ممکن نہ تھا۔ کئی سال تک یہی چھوٹا ٹرانسٹر ہمارے لئے ریڈیائی نشریات سننے کا ذریعہ بنا رہا۔
اس کے بعد ہم نے چار میٹر بینڈ کا بڑا ریڈیو سٹ خریدا۔ یہ ریڈیو سٹ دنیا بھر کے تمام ملکوں کے ریڈیو اسٹیشن کو پکڑتا تھا۔ اس کے ذریعہ جب ہم نے بی بی سی اور دوسرے بیرونی اسٹیشنوں کو سنا تو معلوم ہوا کہ ہم کتنی بڑی دولت سے محروم تھے۔ ہر روز مختلف ممالک نہایت قیمتی پروگرام نشر کرتے ہیں۔ ان کو سننے سے زبردست فکری اور معلوماتی فائدے ہوتے ہیں۔ مگر اس علمی خزانہ سے مستفید ہونا ہمارے لئے اس وقت تک ممکن نہ ہو سکا جب کہ ہم نے بڑا ریڈیو سٹ اپنے لئے حاصل نہ کیا۔
خدا اور بندے کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے ۔ خدا کا فیضان گویا ایک لا محدود نشتر گاہ ہے۔ اس سے ہر لمحہ رزق رب کا مینہ برستا رہتا ہے۔ مگر آپ اس سے کتنا پائیں ، اس کا انحصار آپ کے اپنے ”ریڈیو سٹ “ پر ہے۔ اگر آپ کا ریڈیو سٹ چھوٹا ہے تو آپ بہت کم چیزیں اخذ کر سکیں گے۔ اور اگر آپ کا ریڈیو سٹ بڑا ہے تو آپ کے اوپر اتنا ہی زیادہ خدا کا فیضان برسے گا گویا کہ آپ خدائی فیضان کے اتھاہ سمندر میں نہا اٹھے ہیں۔
آجکل ہر آدمی محدودیت کا شکار ہے۔ کوئی شخص ہے جو کسی گروہی خول میں بند ہے۔ کوئی اپنے آپ کو حقیر مفادات میں اس طرح گم کئے ہوئے ہے کہ اس کو آگے پیچھے کی کوئی خبر نہیں۔ کسی کی سطحیت اس کو گہری حقیقتوں کا ادراک کرنے میں مانع بنی ہوئی ہے کسی کی تنگ نظری نے اس کو اس قابل نہیں رکھا ہے کہ وہ وسیع تر دائرہ کی معرفت حاصل کرسکے۔
بند کوٹھری میں سورج کی روشنی نہیں پہنچتی۔ اسی طرح بند ذہن خدا کا فیضان پانے سے محروم رہتا ہے۔ خدا کا فیضان اسی کو ملتا ہے جو اپنے ذہن کے دروازے کھولنے پر راضی ہو جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1985 All issues