خدا کی نشانی
الرسالہ، جون ۱۹۸۵، صفحہ ۷
خدا کی نشانی
ان فى السماوات والارض لايات للمومنين بے شک آسمانوں اور زمین میں ایمان والوں وفى خلقکم وما یبث من دایة آیات لقوم کے لئے نشانیاں ہیں۔ اور تمہارے اور حیوانات یوقنون۔ واختلاف اللیل والنہار وما انزل کو پیدا کرنے میں جن کو زمین میں پھیلا دیا ہے اللہ من السماء من رزق فاحیا بہ الارض بعد نشانیاں ہیں یقین کرنے والوں کے لئے۔ اور موتھا وتصريف الرياح آيات لقوم رات اور دن کے آنے جانے میں اور اس يعقلون (المجائثہ ۳-۵) رزق میں جس کو اللہ نے اتارا ہے پھر اس سے زمین کو زندہ کیا اس کے خشک ہونے کے بعد اور ہواؤں کے چلنے میں نشانیاں ہیں عقل والوں کے لئے۔
قرآن میں کثرت سے اس طرح کی آیتیں ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ کائنات میں سوچنے والے لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا نے انسان سے جن معنوی حقیقتوں پر ایمان لانے کا مطالبہ کیا ہے ان کی مادی تمثیلات اس نے کائنات میں ہر طرف قائم کر دی ہیں۔ تاکہ آدمی کے لئے ان حقیقتوں کو سمجھنا آسان ہو جائے تاکہ وہ دکھائی دینے والی چیزوں کے آئینہ میں نہ دکھائی دینے والی چیزوں کو دیکھ سکے۔
سورج اور چاند خدا کی روشن ہستی کا تعارف ہیں۔ چڑیاں اور جانور خدا کی خدائی کے معصوم نمائندے ہیں۔ آسمان خدا کی عظمت و قدرت کا اعلان ہے۔ پانی اور ہوا خدا کی رحمت و شفقت کا ایک نمونہ ہیں۔ درخت اور پہاڑ خدا کے لامحدود حسن کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ انسان اگر دنیا میں اس طرح رہے کہ اس کے دماغ کی کھڑکیاں کھلی ہوئی ہوں ۔ وہ دیکھنے والی چیزوں کو دیکھ رہا ہو تو ساری دنیا اس کو خدا کی یاد دلانے والی بن جائے گی۔ وہ ہر چیز میں خدا کا نور پائے گا۔ ہر چیز میں وہ خدا کی حکمت کو در یافت کرے گا۔ کائنات اس کے لئے ایک خدائی سمندر بن جائے گی جس میں وہ نہائے۔ زمین و آسمان اس کے لئے خدائی جلوہ گاہ بن جائیں گے جہاں وہ اپنے رب سے ملاقات کرے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1985 All issues