Al-Risala · June 1985 · page 14

علم کا صدقہ

الرسالہ، جون ۱۹۸۵، صفحہ ۱۴

علم کا صدقہ

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے افضل الصدقة ان يتعلم المرء المسلم اچھا صدقہ یہ ہے کہ مسلمان ایک علم سیکھے پھر اس کو علماً يعلمه اخاه المسلم اپنے مسلمان بھائی کو سکھائے۔

( رواه احمد عن ابي هريرة )

صدقہ کیا ہے ۔ صدقہ در اصل اس خیر خواہی کا نام ہے جو ایک بھائی کی طرف سے اپنے دوسرے بھائی کے لئے ظاہر ہوتی ہے۔ اس خیر خواہی کا اظہار کبھی مال کی صورت میں ہوتا ہے ۔ کبھی ایک اچھی نصیحت کی صورت میں اور کبھی کسی دوسری صورت میں۔ خیر خواہی انسان کے سینہ میں جاری ہونے والا ربانی چشمہ ہے اور صدقہ علم اس ربانی چشمہ کی خارجی سیرابی۔ علم ( سچائی کی معرفت ) بلاشبہ اس کائنات کی سب سے بڑی چیز ہے اور یہی وجہ ہے کہ علم سب سے بڑا صدقہ ہے۔ آسمان کے نیچے ظاہر ہونے والے تمام واقعات میں یہ سب سے زیادہ انوکھا واقعہ ہے کہ ایک آدمی کسی دوسرے شخص کی بھلائی کے لئے تڑپے اور اس کو سچائی کا وہ نور پہنچائے جو اس کو خدا کی طرف سے ملا ہے۔

دوسرے کو علم دینا اس وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ آدمی دوسرے کا خواہ بن جائے۔ اس کے لئے آدمی کو دوسرے کا درد اپنے سینہ میں محسوس کرنا پڑتا ہے ۔ دوسرے کو پانے والابنانے کے لئے اپنے آپ کو نہ پانے پر راضی ہونا پڑتا ہے۔ اپنی بات کو دوسرے کی نظر میں قابل قبول بنانے کے لئے اپنے آپ کو دوسرے کے مقام پر کھڑا کرنا پڑتا ہے۔ اپنے اور دوسرے کے درمیان سننے اور سنانے کی فضا بنانے کی خاطر یک طرفہ طور پر ان تمام جھگڑوں کو ختم کر دینا پڑتا ہے جو دونوں کے درمیان معتدل فضا کو برہم کئے ہوئے ہوں۔

علم کا صدقہ سب سے بڑی قربانی کی قیمت پر دیا جاتا ہے ۔ یہ دینا اس وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ آدمی اپنے آپ کو خالی دیکھنے پر راضی ہو جائے۔ اس دنیا میں دینے والا بننے کے لئے کھونے والا بننا پڑتا ہے۔ چوں کہ لوگ کھونے والا بننے کے لئے تیار نہیں ہوتے اس لئے وہ دینے والے بھی نہیں بنتے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1985 All issues

Printed page