دوسرا قرآن
الرسالہ، جون ۱۹۸۵، صفحہ ۱۵
دوسرا قرآن
ایک مسلمان نے اپنے ایک غیر مسلم دوست کو قرآن کا ترجمہ پڑھنے کے لئے دیا۔ غیر مسلم نے بڑے شوق اور احترام کے ساتھ قرآن کو لیا اور اس کو شروع سے آخر تک پڑھ ڈالا۔ اگلی ملاقات میں اس نے قرآن کا مذکورہ نسخہ واپس کرتے ہوئے کہا:
"اب دوسرا قرآن دیجئے"
مسلمان نے سمجھا کہ وہ قرآن کا دوسرا نسخہ مانگ رہے ہیں۔ چنانچہ وہ دوسرا نسخہ لائے اور اس کو مذکورہ غیر مسلم کے ہاتھ میں رکھ دیا۔ غیر مسلم نے اس کو لے کر کچھ دیر الٹ پلٹ کر دیکھا۔ پھر کہا "یہ تو وہی قرآن ہے۔ میرا مطلب یہ تھا کہ اب وہ قرآن دیجئے جس پر آپ لوگ عمل کرتے ہیں۔ " غیر مسلم نے قرآن میں جو اسلام پڑھا وہ اس سے مختلف تھا جو اس نے مسلمانوں کی اپنی زندگی میں دیکھا تھا۔ غیر مسلم نے سمجھا کہ مسلمانوں کے یہاں شاید دوسرا قرآن ہے۔ ایک وہ جس کو اس نے ابھی پڑھا ہے، دوسرا وہ جو ابھی اس کو پڑھنے کو نہیں ملا۔
بظاہر یہ ایک لطیفہ معلوم ہوتا ہے۔ مگر امر واقعہ یہی ہے کہ مسلمانوں کا دوسرا قرآن ہے۔ ایک وہ جو خدا کی طرف سے چودہ سو سال پہلے اترا تھا۔ دوسرا وہ جو انھوں نے خود لکھ رکھا ہے۔ اس دوسرے قرآن کا نام قرآن نہیں ۔ اس کا نام قرآن کی تشریح و تعبیر ہے۔ مسلمانوں نے اپنی تشریح و تعبیر سے قرآن کے متوازی ایک اور قرآن لکھ رکھا ہے۔ اس دوسرے قرآن میں وہ سب کچھ ہے جس پر آج وہ عمل کر رہے ہیں۔
قرآن میں اسلام اطاعت کا نام ہے مگر مسلمانوں کی اپنی تشریح میں اسلام فخر کی چیز بن گیا ہے۔ قرآن کے مطابق نجات کا دارو مدار عمل پر ہے مگر مسلمانوں کی تشریح کے مطابق نجات کے لئے یہ کافی ہے کہ آدمی اپنے کو مسلمان کہتا ہو۔ قرآن کا اسلام یہ ہے کہ آدمی اپنا احتساب کرے مگر مسلمانوں کی تشریح کے خانہنے میں اسلام اس کا نام ہو گیا ہے کہ آدمی احتساب عالم کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہو۔ قرآن کا اسلام سارے عالم کا اسلام ہے۔ مگر مسلمانوں کے ذہنی خا میں وہ ایک قومی چیز بن کر رہ گیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1985 All issues