Al-Risala · June 1985 · page 16

اعلیٰ ظرفی

الرسالہ، جون ۱۹۸۵، صفحہ ۱۶

اعلیٰ ظرفی

امیر معاویہ کی خلافت کے زمانہ کا واقعہ ہے۔ اس زمانہ میں روم کی مشرقی سلطنت کے اکثر حصے فتح ہو چکے تھے۔ رومی بادشاہ پسپا ہو کر قسطنطنیہ (ترکی) کے قلعہ میں رہنے لگا تھا۔ تاہم سرحد پر وہ مسلمانوں سے چھیڑ چھاڑ کرتا رہتا تھا۔ اسی قسم کی ایک جھڑپ میں ایک بار رومیوں نے کچھ مسلمانوں کو قید کر لیا جن میں قریش کا ایک آدمی بھی شامل تھا۔ رومی بادشاہ کو معلوم ہوا تو اس نے کہا کہ وہ لوگ میرے سامنے حاضر کئے جائیں۔

مسلمان قیدی اس حال میں دربار میں لائے گئے کہ ان کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے اور پاؤں میں بیڑیاں پڑی ہوئی تھیں۔ رومی بادشاہ نے ان سے ذلت آمیز گفتگو کی۔ اس نے کہا کہ تم جیسے لوگوں کی سزا یہی ہے۔ ہم تم کو اسی طرح سزا دیں گے یہاں تک کہ تم مر جاؤ اور تمہارے ہم قوموں کو عبرت ہو کہ وہ ہمارے علاقہ کی طرف دیکھنا چھوڑ دیں۔

قریشی کو بادشاہ کا کلام سن کر غیرت آ گئی۔ اس نے بادشاہ کو سخت انداز میں جواب دیا۔ اس نے کہا کہ جب تک تمہاری اسلام دشمنی باقی ہے تمہارے خلاف ہماری جنگ جاری رہے گی ۔ اور تم جان لو کہ خدا کے راستہ میں ہمارا خون بہت سستا ہے مگر وہ اس وقت بہت قیمتی ہو جائے گا جب کہ تمہارے جیسا بادشاہ ہم کو قتل کرے۔

قریشی کا یہ جواب سن کر دربار کے ایک بطریق (Patriarch) کو غصہ آ گیا۔ وہ اٹھ کر قریشی کے پاس آیا اور اس کے چہرہ پر دائیں بائیں دو طمانچہ مارا۔ قریشی کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے اس لئے اس وقت وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ البتہ اپنی اس بے عزتی پر وہ چیخ پڑا :

وصاح القرشی با علی صوته ۔ یا معاویة قریشی بلند آواز سے چیخا ۔ اے معاویہ تم کہاں ہو ابن انت لتنتقم من ھؤلاء الا نذال الذین که ان ذلیل لوگوں سے انتقام لو جنھوں نے تمہارے نطموا شريفاً من اهلکا۔ والتقت الی البطریق ایک شریف آدمی کو طمانچہ مارا ہے۔ پھر وہ بطریق وقال : اقسم بالله ان لى معك يوما ستعرف کی طرف مخاطب ہوا اور کہا کہ میں خدا کی قسم کھا کر فیه من انا۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1985 All issues

Printed page