اعلیٰ ظرفی
الرسالہ، جون ۱۹۸۵، صفحہ ۱۷
جب کہ تم جان لو گے کہ میں کون ہوں۔
اس واقعہ کی خبر قسطنطنیہ سے دمشق پہنچی۔ امیر معاویہ کو اسے سن کر بہت رنج ہوا۔ انھوں نے عزم کیا کہ اس سلسلہ میں ضرور کچھ نہ کچھ کرنا چاہئے۔ امیر معاویہ نے اولارومی بادشاہ سے تبادلہ کی بنیاد پر مسلمان قیدیوں کی رہائی کی بات کی۔ یہاں تک کہ مسلم قیدیوں کی تعداد کے مقابلہ میں رومی قیدیوں کی زیادہ تعداد کو واپس کر کے اپنے قیدیوں کور ہا کر لیا۔
اس کے بعد امیر معاویہ نے نہایت خاموشی کے ساتھ ایک منصوبہ بنایا۔ انھوں نے تلاش کر کے صور شام) کے ایک آدمی کو حاصل کیا۔ وہ تاجر تھا اور رومی زبان جانتا تھا۔ امیر معاویہ نے کثیر مقدار میں اس کو سونے کے دینار دئے۔ اس کو پورا منصوبہ بتایا اور کہا کہ تم جاؤ اور کسی نہ کسی طرح اس بطریق کو پکڑ کر دمشق لے آؤ۔
اس آدمی نے تاجر کے روپ میں سفر کیا اور اس طرح دمشق سے قسطنطنیہ پہنچا۔ بطریق کے بارہ میں معلومات حاصل کر کے اس سے تعلقات پیدا کئے۔ اس کو قیمتی تحفے (عطر، جواہرات، ریشمی کپڑے وغیرہ ) پیش کئے۔ اس طرح وہ کئی بار دمشق سے قسطنطنیہ اور قسطنطنیہ سے دمشق آتا جاتا رہا اور بطریق کو تحفے دیتا رہا۔ یہ پورا معاملہ اتنی راز داری کے ساتھ ہوا کہ تاجر اور امیر معاویہ کے سواکسی اور کو اس کی مطلق خبر نہ ہوسکی۔
اس طرح لمبا عرصہ گزر گیا۔ جب بطریق سے کافی تعلقات ہو گئے تو اس نے بطور خود کچھ خاص تحفے لانے کی فرمائش کی۔ تاجر اس سے وعدہ کر کے واپس ہوا۔ وہ دمشق آیا۔ یہاں اس نے نہایت تیز رفتار اونٹنی حاصل کی۔ اونٹنی کو ایک آدمی کے ساتھ لا کر ایک خاص مقام پر ٹھہرایا۔ اس کے بعد وہ بطریق کے پاس گیا اور کہا کہ میں تمہارے تمام تحفے لے کر آیا ہوں۔ تم میرے ساتھ چلو۔ اس طرح حیلہ کر کے وہ بطریق کو مذکورہ مقام پر لے گیا۔ یہاں دونوں نے اچانک بطریق کو پکڑ لیا۔ انھوں نے نہایت تیزی سے بطریق کے ہاتھ پاؤں باندھے اور اس کو سواری پر بٹھا کر ہوا کی رفتار سے دمشق کی طرف روانہ ہو گئے۔
بطریق جب دمشق پہنچ گیا تو امیر معاویہ نے ایک مجلس میں بہت سے لوگوں کو جمع کیا اور مذکورہ قریشی کو بھی بلایا۔ اس کے بعد ایک پردہ ہٹایا گیا تو اس کے پیچھے مذکورہ بطریق موجود تھا۔ قریشی اس
‹ Previous page Next page › Contents of June 1985 All issues