اعلیٰ ظرفی
الرسالہ، جون ۱۹۸۵، صفحہ ۱۸
کو دیکھ کر حیران رہ گیا ۔ تاریخ کے اگلے الفاظ یہ ہیں : قال معاويۃ يخاطب القرشي يا ابـن عمّى ، الان تستطيع ان تشکر الصوری فقد نفذ كل تدبير دبرتہ لہ دون ان يخيب ظني في اقل شئی. والان تستطيع ان تاخذ بحقك من البطريق دون ظلم لہ. فقال القرشي لولا انی اقسمت لعفوت عنہ ، ورفع يده ولطمہ لطمۃ واحدۃ وهو يقول هذه تكفی، واعفو عنہ فيما بقى۔
ونظر معاويۃ الى البطريق ، وقال : بعد هذا انت فى ضيافتنا ثلاثۃ ايام ومرت الايام الثلاثۃ فاعادہ الصوری ومعہ كل الهدايا التي كان قد طلبها وفى قصر ملك الروم التف البطارقۃ حول الملك ليقول لهم لا تسيؤا الى اسری المسلمين منذ الان فما رأيت مثلهم عزة وكـرامۃ وأخـلاقـا۔ ولو إراد معاويۃ ان يخطفنى لما عجز لكنه لا يرضی۔
امیر معاویہ نے قریشی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اے میرے چچا کے بیٹے ، اب تم اس صوری تاجر کا شکریہ ادا کرو۔ اس کو میں نے جو تدبیر بھی بتائی اس کو اس نے بغیر کسی ادنیٰ کمی کے نافذ کیا۔ اور اب تم اس بطریق سے اس پر ظلم کئے بغیر اپنا حق لے سکتے ہو۔ قریشی نے کہا کہ اگر میں نے قسم نہ کھائی ہوتی تو میں اس کو معاف کر دیتا۔ پھر ہاتھ اٹھایا اور اس کو ایک طمانچہ مارا اور کہا کہ بس یہ کافی ہے۔ بقیہ کو میں اس سے معاف کرتا ہوں۔ پھر معاویہ نے بطریق کی طرف دیکھا اور کہا کہ اب تم تین دن کے لئے ہمارے مہمان ہو۔ تین دن گزرنے کے بعد اس کو صوری تاجر نے اس حال میں واپس کیا کہ اس کے ساتھ وہ تمام تحفے تھے جن کو اس نے طلب کیا تھا۔ اس کے بعد قسطنطنیہ میں تمام بطریق رومی بادشاہ کے پاس جمع ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ اب مسلم قیدیوں کے ساتھ برا سلوک نہ کرو۔ کیوں کہ میں نے عزت اور شرافت اور اخلاق میں ان کے جیسا نہیں دیکھا۔ اور اگر معاویہ مجھ کو پکڑنا چاہتے تو وہ اس کے لئے عاجز نہ تھے مگر انھوں نے ایسا کرنا پسند نہیں کیا۔
الدعوة ( مكة ) ۱۴ جمادی الاولی ۱۳۰۵ھ
‹ Previous page Next page › Contents of June 1985 All issues