بادشاہ بھی
الرسالہ، جون ۱۹۸۵، صفحہ ۱۹
بادشاہ بھی
یروی ان عبد الملك بن مروان بیان کیا جاتا ہے کہ عبدالملک بن مروان نے ایک خطبَ يوماً خطبة بليغة ثم قطعها روز ایک بلیغ خطبہ دیا۔ پھر وہ رک گیا۔ اور شدت وبکی بكاءً شديداً ثم قال: يارب کے ساتھ رویا۔ اس کے بعد اس نے کہا کہ اے ان ذنوبي عظيمة وان قليل عفول میرے رب، بے شک میرا گناہ بہت زیادہ ہے اعظم منها ـ اللهم فامنح بقليل مگر تیری تھوڑی معافی اس سے بھی زیادہ ہے ۔ عفوك عظيم ذنوبي ـ فبلغ ذالك اے اللہ، اپنی تھوڑی سی معافی سے میرے زیادہ الحسن فبكى وقال لوكان كلام گناہ کو مٹا دے۔ یہ بات حضرت حسن بصری يكتب بالذ هب لكتب هذا الكلام کو پہنچی تو اس کو سن کر وہ رو پڑے اور کہا کہ (الدعوة ۱۲ جمادی الآخرة ۵۱۳۰۵) اگر کوئی کلام سونے سے لکھا جاتا تو یقیناً یہ کلام اس قابل تھا کہ اسے سونے سے لکھا جائے۔
عبد الملک بن مروان (۸۵ - ۲۳ھ) بنو امیہ کا نہایت ذہین اور مدبر خلیفہ تھا۔ حجاج بن یوسف ثقفی اسی کا عامل تھا جس نے مکہ پر چڑھائی کی اور عبداللہ بن زبیر کو قتل کیا۔ عبد الملک بن مروان کا شمار تابعین کے گروہ میں ہوتا ہے۔
مذکورہ واقعہ بتاتا ہے کہ قدیم زمانہ کے جابر بادشاہ بھی خدا کے خوف سے خالی نہ تھے ۔ کسی نہ کسی موڑ پر ان کا جذبہ پھٹ پڑتا تھا۔ مگر موجودہ زمانہ میں بے حسی کا یہ عالم ہے کہ ’’دیندار‘‘لوگ لوگ بھی خوف خدا سے خالی ہو گئے ہیں۔ ان کی نمازوں نے ان کے دلوں کو نرم نہیں کیا۔ ان کے ذکر نے ان کے سینہ کو چھلنی نہیں کیا۔ ان کا ایمان وہ ایمان نہیں بنا جو ان کو خدا کے سامنے کھڑا کر دے۔ موجودہ زمانہ کے لوگوں پر قرآن کے یہ الفاظ صادق آتے ہیں: پھر تمہارے دل سخت ہو گئے تو وہ پتھر کی مانند ہیں یا اس سے بھی زیادہ سخت۔ اور بعض پتھر تو ایسے ہیں جن سے نہریں پھوٹ نکلتی ہیں۔ اور بعض ایسے ہیں جو پھٹ پڑتے ہیں پھر ان سے پانی نکل آتا ہے۔ اور بعض ایسے ہیں جو خدا کے خوف سے گر پڑتے ہیں۔ اور اللہ اس سے بے خبر نہیں جو تم کرتے ہو (البقرہ ۷۴)
‹ Previous page Next page › Contents of June 1985 All issues