بادشاہ بھی
الرسالہ، جون ۱۹۸۵، صفحہ ۳۰
دیکھنے والا دیکھ رہا ہے یہ واقعہ نئی دہلی میں ۱۱ فروری ۱۹۸۵ کو پیش آیا۔
کناٹ پلیس کے ہوٹل تاج میں ایک تقریب تھی۔ یہ تقریب دہلی کے ایک تاجر مسٹر ایس پی سونی نے اپنے لڑکے کی شادی کے سلسلہ میں نہایت اہتمام کے ساتھ منعقد کی تھی۔ شرکاء کی تعداد تقریباً چار سو تھی جو سب کے سب اعلیٰ طبقہ سے تعلق رکھتے تھے۔
لوگ تقریب کی رونقوں میں کھوئے ہوئے تھے کہ اچانک ایک خاتون نے محسوس کیا کہ اس کا پرس چوری ہوگیا ہے۔ یہ مسز سنتوش سونی کا پرس تھا۔ اس میں پچاس ہزار روپے نقد رکھے ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ اس کے اندر ایک قیمتی ہار بھی تھا جو خالص موتیوں کا بنا ہوا تھا۔ چوری کے واقعہ کو نہ پرس کی مالکن نے دیکھا اور نہ دوسرے شرکاء اس کو محسوس کر سکے۔ بظاہر یہ مکمل طور پر ایک راز تھا۔ چوری کرنے والا چوری کر چکا تھا۔ اور جس کی چوری ہوئی تھی اس کے لئے صرف یہ باقی رہ گیا تھا کہ وہ اپنی خوشیوں کو غم میں تبدیل کرکے اپنے گھر واپس چلی جائے۔ حتیٰ کہ ہوٹل کے ذمہ داریہ ماننے کے لئے بھی تیار نہ تھے کہ چوری کا واقعہ ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ بناوٹی بات ہے۔ ہمارے یہاں ایسا نہیں ہو سکتا۔ ہوٹل والوں کی نظر میں یہ قصہ اتنا بے بنیاد تھا کہ انھوں نے اس کی ضرورت بھی نہیں سمجھی کہ ہال کا دروازہ بند کرکے لوگوں کی تلاشی لیں۔ اتنے میں بعض افراد کو خیال آیا کہ شادی کی تقریب شروع سے آخر تک (Video film) پر ریکارڈ کی گئی ہے، کیوں نہ اس کا معائنہ کیا جائے۔
فوراً تقریب کے شر کا ء اور ہوٹل کے ذمہ داروں کے سامنے ویڈیو ٹیپ چلایا گیا۔ اس سے پہلے تمام شرکاء کی نگاہیں زرّق برق اسٹیج پر لگی ہوئی تھیں جہاں دولھا اور دلھن رونق افروز تھے۔ مگر اب ان کی توجہ کا مرکز دوسرا تھا۔ جس منظر کو اس سے پہلے انھوں نے صرف تفریح کی نظر سے دیکھا، اب اس کو انھوں نے تفتیش کی نظر سے دیکھنا شروع کر دیا۔
بہت جلد لوگوں کی نگاہیں ایک عورت پر جم گئیں جو ایک لڑکے کے ساتھ آیا کے روپ میں ہال کے اندر داخل ہوئی تھی۔ ابتدا ر لوگوں نے یہ سمجھ کر نظر انداز کر دیا تھا کہ وہ معزز
‹ Previous page Next page › Contents of June 1985 All issues