Al-Risala · June 1985 · page 21

بادشاہ بھی

الرسالہ، جون ۱۹۸۵، صفحہ ۲۱

مہمانوں میں کسی مہمان کے ساتھ آئی ہے۔ مگر اب اس کو ایک امکانی مجرم کی نظر سے دیکھا جانے لگا۔ یہ عورت جو آیا کے روپ میں آئی تھی وہ اس سے بالکل بے خبر تھی کہ یہاں ویڈیو کیمرہ نصب ہے اور اس کی نظریں ہر لمحہ اس کو دیکھ رہی ہیں۔ وہ اس کی ہر حرکت کا نہایت باریکی کے ساتھ ریکارڈ کر رہی ہیں۔ وہ مشتبہ انداز میں ادھر سے ادھر جا رہی تھی۔

آخر کار لوگوں نے دیکھا کہ اس ”آیا“ نے شال میں چھپا ہوا اپنا ہاتھ باہر نکالا اور نہایت تیزی سے مذکورہ پرس کو اٹھا کر عین اس وقت اس کو اپنے کپڑوں کے اندر چھپا لیا جب کہ پرس کی مالکہ فوٹو کھینچوانے کے پروگرام میں کھوئی ہوئی تھی۔

جو واقعہ لوگوں کی نظروں سے اوجھل تھا اس کو ویڈیو کیمرہ کی نگاہ نے بتا دیا جو مجموعی طور پر سارے منظر کی تصویر کشی کر رہا تھا۔ فوراً پولیس بلائی گئی اور پولیس کے سامنے دوبارہ پوری فلم چلائی گئی ۔ جرم ثابت ہو گیا تھا۔ مذکورہ عورت کو پولیس نے تلاش کر کے گرفتار کر لیا۔ اس کا نام اخبار میں شیلا بتایا گیا ہے جو سلطان پوری کی رہنے والی ہے۔ ہندوستان ٹائمس (۱۶ مارچ ۱۹۸۵) نے یہ کہانی تفصیل کے ساتھ شائع کرتے ہوئے یہ معنی خیز جملہ لکھا ہے:

You can not only spot the thief but see her commit the cirme. آپ نہ صرف چور کو پکڑ سکتے ہیں بلکہ اس کو جرم کرتے ہوئے دیکھ بھی سکتے ہیں۔ یہ دنیوی واقعہ آخرت کے واقعہ کا آئینہ ہے۔ یہ واقعہ تمثیل کے انداز میں بتا رہا ہے کہ کوئی بالاتر دیکھنے والا ہے جو ہر ایک کو دیکھ رہا ہے۔ وہ ان باتوں کو نہایت باریکی کے ساتھ ریکارڈ کر رہا ہے جس کی خبر نہ قریب کے لوگوں کو ہوتی اور نہ دور کے لوگوں کو ۔ وہ ان باتوں کو بھی جانتا ہے جس کو لوگ نہیں جانتے۔ وہ ان چیزوں کو بھی دیکھتا ہے جن کو لوگ نہیں دیکھتے۔

دنیا کے واقعات آخرت کی حقیقتوں کا آئینہ ہیں۔ آج جو کچھ ہو رہا ہے۔ اس میں ان واقعات کو دیکھا جا سکتا ہے جو کل کے دن پیش آنے والے ہیں۔ مگر اس مشاہدہ کے لئے بصیرت کی نگاہ درکار ہے۔ اور یہ وہ چیز ہے جو آنکھ والوں کے پاس بھی اکثر نہیں ہوتی۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1985 All issues

Printed page