تباہی کی طرف
الرسالہ، جون ۱۹۸۵، صفحہ ۲۲
تباہی کی طرف
دوسری جنگ عظیم میں ۵ کروڑ افراد ہلاک ہوئے تھے اور ۹ کروڑ آدمی ہمیشہ کے لئے معذور ہو گئے۔ اس جنگ میں تقریباً چار ہزار ارب ڈالر کی جائیداد تباہ ہوئی۔ اس سے پہلے جنگِ عظیم اول میں تقریباً ایک کروڑ افراد ہلاک ہوئے تھے اور دو کروڑ افراد اپاہج ہو گئے تھے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد اس قسم کی کوئی عالمی جنگ نہیں ہوئی مگر چھوٹی چھوٹی جنگیں مسلسل جاری رہی ہیں۔ ۱۹۸۲ تک ۳۵ سالوں کے اندر دنیا بھر میں جو چھوٹی چھوٹی جنگیں ہوئیں ان میں مجموعی طور پر ایک کروڑ افراد ہلاک ہو گئے اور تقریباً پانچ سو ارب ڈالر کی جائیداد تباہ ہوئی۔ اس مدت میں ۵۰ لڑائیاں ہوئیں۔ یہ معلومات ماسکو کے ایک ہفتہ وار نیو ٹائمز نے شائع کی ہیں۔
موجودہ زمانہ میں دولت کا سب سے بڑا مصرف جنگ (یا دفاع) کی تیاری ہے۔ ورلڈ بینک کے صدر مسٹر کلاسین (A.W. Clausen) نے کہا کہ ۱۹۸۵ میں صرف ایک سال کے اندر دولتمند ممالک ہتھیاروں کی فراہمی پر جو رقم خرچ کریں گے اس کی مقدار ایک ہزار بلین ڈالر ہے (ٹائمز آف انڈیا ۷ دسمبر ۱۹۸۴)
امریکہ کے سابق صدر جی کاٹر نے ۱۵ جنوری ۱۹۸۱ کو امریکی ٹیلی وژن پر اپنی الوداعی تقریر کی تھی۔ انھوں نے قوم کو ایٹمی جنگ کے خطرہ سے آگاہ کیا جس کا ہونا ان کے خیال میں یقینی ہے۔ خواہ وہ دیر میں ہو یا جلد۔ اگر ایٹمی جنگ ہوئی تو آغاز جنگ کے ابتدائی چند گھنٹوں میں اتنے زیادہ آدمی ہلاک ہو چکے ہوں گے جتنا ساری تاریخ کی تمام جنگوں میں مجموعی طور پر ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ بتاتے ہوئے انھوں نے کہا:
Nuclear conflict would cause as much damage as a world war II-every second. Surrivers, if any, in despair amidst the poisoned ruins of a civilisation that had committed suicide. ایٹمی جنگ ہر سیکنڈ میں دوسری جنگ عظیم کے بقدر نقصان پہنچائے گی۔ اگر کچھ لوگ مرنے سے بچ جائیں گے تو وہ تہذیب کے زہر یلے کھنڈر میں مایوسانہ پڑے ہوئے ہوں گے جو خود کشی کر چکی ہوگی (۱۶ جنوری ۱۹۸۱)
‹ Previous page Next page › Contents of June 1985 All issues