گواہی کا قانون
الرسالہ، جون ۱۹۸۵، صفحہ ۲۳
گواہی کا قانون
اسلام کے قانون شہادت میں دو عورت کی گواہی ایک مرد کے برابر مانی گئی ہے۔ قرآن میں قرض کے معاملہ کا قاعدہ بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اپنے مردوں میں سے دو مرد کو گواہ بنالو۔ اور اگر دو مرد گواہ نہ ملیں تو ایک مرد اور دو عورتیں گواہ بنائی جائیں، ایسے گواہوں میں سے جن کو تم پسند کرتے ہو۔ تاکہ ان دونوں عورتوں میں سے ایک اگر بھول جائے تو دوسری عورت اس کو یاد دلا دے (البقرہ ۲۸۲)
حالیہ تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ قرآن کا یہ قانون بالکل فطری ہے۔ کیونکہ وہ حیاتیاتی حقیقت کے عین مطابق ہے۔
ٹائمس آف انڈیا (۱۸ جنوری ۱۹۸۵) میں یوپی آئی کے حوالہ سے ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ یہ رپورٹ اخبار کے صفحہ ۹ پر ہے اور اس کے الفاظ حسب ذیل ہیں: MEMORISING ABILITY: Men have a greater ability to memorise and process mathematical information than women but females are better with words, a Soviet scientist says, reports UPI. 'Men dominate mathematical subjects due to the peculiarities of their memory', Dr. Vladimir Konovalov told the Tass news agency. “The stronger sex shows greater difficulties in processing and adapting language material."
عورتوں کے مقابلہ میں مردوں کے اندر اس بات کی زیادہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ ریاضیاتی معلومات کو یاد رکھیں اور اس کو ترکیب دے سکیں۔ مگر عورتیں الفاظ میں زیادہ بہتر ہوتی ہیں۔ یہ بات ایک روسی سائنس داں نے کہی۔ ڈاکٹر ولادی میر کونولوف نے 'ٹاس نیوز ایجنسی کو بتایا کہ مرد ریاضیاتی موضوعات پر چھائے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ ان کے اندر حافظہ کی خصوصی صلاحیت ہے۔ صنف قوی لسانی مواد کو ترکیب دینے اور استعمال کرنے میں زیادہ مشکل محسوس کرتا ہے۔ مذکورہ آیت کا تعلق قرض سے ہے یعنی وہ صورت جب کہ آج معاملہ کیا جائے اور آئندہ اس کی ادائیگی ہو۔ ایسے معاملہ میں حکم دیا گیا کہ اس کے اوپر دو مرد گواہ ہوں۔ یا ایک مرد اور دو عورتیں گواہ مقرر کی جائیں۔ یہ بالکل واضح ہے کہ اس طرح کے معاملہ میں انصاف پسندی کے بعد دوسری چیز جو دیکھنے کی ہے وہ یادداشت ہے۔ اور جب حیاتیاتی طور پر عورت کی یادداشت مرد سے کم ہو تو یہ عین مطابق حقیقت ہے کہ ایک مرد کی جگہ دو عورتیں گواہ بنائی جائیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1985 All issues