Al-Risala · June 1985 · page 24

ایک تقریر

الرسالہ، جون ۱۹۸۵، صفحہ ۲۴

ایک تقریر

دوستو، میری بوڑھی آنکھیں جن کے وقت آ گیا تھا کہ وہ قبر میں دفن ہوں، ان کے لئے خدا نے یہ مقدر کیا کہ وہ جس اجتماع کو دیکھیں۔ بخدا اگر آسمان سے آواز آئے کہ زمین پر ایک شخص ایسا ہے جس کو جلسہ اور اجتماع سے کوئی دل چسپی نہیں تو میں سمجھوں گا کہ یقیناً وہ میں ہی ہوں۔ اگر زمین پر کوئی ایک شخص ایسا ہو جس کی یہ تمنا ہو کہ وہ نہ کچھ بولے اور نہ کچھ لکھے بلکہ فطرت کی تنہائیوں میں گم ہو جائے تو مجھے یقین ہے کہ وہ میں ہی ہوں گا۔ مجھے اس میں ذرا ابھی شبہ نہیں کہ میری ان باتوں کو زمین و آسمان سن رہے ہیں اور قیامت میں وہ گواہی دیں گے کہ خدا یا تیرے ایک عاجز بندے نے جو کچھ کہا تھا بالکل سچ کہا تھا۔

بخدا اس چیز نے میری تنہائیوں کو توڑا، جس چیز نے مجھے مجبور کیا کہ میں اپنے خون کو سیاہی کروں اور اپنی بے زبانی کو زبان بناؤں وہ صرف یہ احساس تھا کہ جو اصل بات ہے وہی ان کہی پڑی ہوئی ہے۔ خدا کے نام پر ہنگامے جاری ہیں مگر کوئی خدا کے گیت گانے والا نہیں۔ چڑیاں خدا کے نغمے گار ہی ہیں مگر انسان خدا کے نام پر دوسروں کی کبر یائی کا چرچا کرنے میں مشغول ہے۔ سورج خدا کی روشنی بکھیرتا ہے مگر انسان کے پاس اپنے جھوٹے چراغوں کا بازار لگانے کے سوا اور کچھ نہیں۔ دین کے نام پر بے شمار سرگرمیاں نظر آتی ہیں مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں نے دین اس کو سمجھا ہے کہ لفظی طلسمات کی نمائش کریں اور اس پر خدا کا بورڈ لگا دیں۔ اپنی ذات کا جھنڈا بلند کریں اور اس پر اعلاء کلمۃ اللہ کا طغرا لکھ دیں۔ اپنے دنیوی مفادات کی تجارت کریں اور اس کو آخرت کا عنوان دے دیں۔

بخدا میری کمزور زبان اس قابل نہیں کہ وہ بولے ، میری بوڑھی ہڈیوں میں یہ طاقت نہیں کہ وہ لکھے۔ میرے کمزور قدموں میں اتنی جان نہیں کہ وہ چل کر کسی کے پاس پہنچے۔ مگر جس آدمی کا دل غم سے پھٹ رہا ہو وہ اپاہج ہو کر بھی گھٹتا ہے۔ وہ بے زبان ہو کر بھی چیخنے کی کوشش کرتا ہے۔ خدا بہتر جانتا ہے کہ میں اس زمین کا وہ کمزور ترین انسان ہوں جس کو اس کے دل کے کرب نے مجبور کر دیا ہے کہ وہ چلے اور اس کے غم کے بوجھ نے اس کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ بولے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1985 All issues

Printed page