Al-Risala · June 1985 · page 25

ایک تقریر

الرسالہ، جون ۱۹۸۵، صفحہ ۲۵

میرے دوستو ، آپ ایک لمبا جغرافی سفر طے کر کے یہاں آئے ہیں۔ اس کے لئے ہم یقیناً آپ کے شکر گز ار ہیں۔ مگر ابھی آپ کو ایک فاصلہ اور طے کرنا ہے۔ یہ روحانی فاصلہ ہے جب تک آپ اس دوسرے فاصلہ کو طے نہ کریں ہمارا آپ کا یہاں آنا صرف انسانی ڈھانچوں کا آنا رہے گا ، وہ روحوں کا آنا نہیں بن سکتا۔

دوستو ، جو کچھ مجھے کہنا ہے اس کو سننے کے لئے کان نہیں بلکہ دل درکار ہیں۔ جو کچھ مجھے بولنا ہے اس کو سمجھنے کے لئے زبان دانی نہیں بلکہ حقیقت شناسی مطلوب ہے۔ جو بات میں آپ تک پہنچانا چاہتا ہوں اس کو آپ تک پہنچنے کے لئے صرف یہ کافی نہیں کہ میرے اور آپ کے درمیان ہوا کی لہریں ہوں جو میرے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ کو آپ تک منتقل کر دیں۔ یہ بات تو اتنی نازک اور اتنی لطیف ہے کہ وہ صرف ان دیکھے روحانی تاروں ہی پر منتقل ہوتی ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ان لوگوں میں سے بنائے جو کان کے بجائے دل سے سنتے ہیں۔ جو لغت اور زبان کے بجائے حقائق کی روشنی میں باتوں کو سوچتے ہیں۔

بجلی کا بلب ہر شخص اپنے کمرہ میں لٹکا سکتا ہے مگر اسی شخص کا بلب روشن ہوتا ہے جس نے اپنے بلب اور پاور ہاؤس کے درمیان ربط قائم کر رکھا ہو ، جس نے اپنے بلب کو پاور ہاؤس سے جوڑ لیا ہو۔ یہی معاملہ حقیقتوں کے دل نشین ہونے کا بھی ہے۔ ان باتوں کو وہی لوگ سمجھیں گے جو انسانوں کی عظمت کے بجائے خدا کی عظمت میں جیتے ہوں ۔ جو دنیا کے بجائے آخرت کو اپنا مرکز تو جہ بنائے ہوئے ہوں۔ جو دکھائی دینے والی حقیقتوں سے زیادہ ان حقیقتوں کو اہمیت دیں جو موجودہ آنکھوں سے کسی کو دکھائی نہیں دیتیں۔

آئینہ کے سامنے آپ کوئی چیز رکھیں تو آئینہ میں عین وہی چیز دکھائی دے گی جو اس کے سامنے رکھی گئی ہے۔ مگر الفاظ کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ کوئی آدمی الفاظ ہی کے ذریعہ اپنی بات دوسروں تک پہنچاتا ہے۔ مگر الفاظ کا ذریعہ بے حد ناقص ذریعہ ہے۔ آدمی کہتا کچھ ہے اور سمجھنے والا اس کو کچھ سمجھ لیتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سننے والا کسی بات کو اپنے ذہن سے سنتا ہے نہ کہ سنانے والے کے ذہن سے۔

ہائی اسکول کے ایک طالب علم کا لطیفہ ہے۔ جس زمانہ میں اس کا امتحان تھا اسی زمانہ میں اس

‹ Previous page Next page › Contents of June 1985 All issues

Printed page