ایک تقریر
الرسالہ، جون ۱۹۸۵، صفحہ ۳۶
کے شہر میں ایک فلم چل رہی تھی جس کا نام تھا دو بدن ۔ طالب علم نے اس فلم کو کئی بار دیکھا تھا۔ اس کے بعد اس کا امتحان ہوا۔ امتحان میں اس کے فارسی کے پرچہ میں ایک سوال تھا کہ دویدن کا مطلب بتاؤ۔ طالب علم کے ذہن پر چونکہ دو بدن کا لفظ گھوم رہا تھا۔ اس نے دویدن کو دو بدن پڑھ لیا اور دو بدن نامی فلم کے بارے میں جو کچھ جانتا تھا وہ اس کے جواب میں لکھ ڈالا۔ یہی معاملہ دین کے بارہ میں بھی ہوتا ہے۔ اس کی ایک مثال لیجئے ۔ ایک بزرگ نے پیغمبروں کے مشن کا یہ تصور قائم کیا کہ وہ حکومت پر قبضہ کر کے مکمل قانونی نظام قائم کریں ۔ اس ذہن کے تحت انھوں نے سورہ اعراف پڑھنی شروع کی۔ یہاں تک کہ وہ اس مقام پر پہنچے جہاں موسیٰ اور فرعون کا مکالمہ درج ہوا ہے۔ ان کو نظر آیا کہ موسیٰ کے جواب میں فرعون مصر یہ جملہ کہہ رہا ہے۔ یرید ان یخرجکم من ارضکم (وہ چاہتا ہے کہ تم کو تمہاری زمین سے نکال دے) یہ جملہ لے کر مذکورہ بزرگ نے فوراً یہ تقریر شروع کر دی کہ موسیٰ کا مشن یہ تھا کہ فرعون کو مصر کے تخت سے ہٹا کر اس پر قبضہ کریں اور مصری زندگی کے تمام شعبوں میں خدا کے مکمل قانون کو نافذ کریں۔
یہ استدلال سراسر بے بنیاد تھا۔ کیونکہ موسیٰ کا مشن موسیٰ کے کلمہ سے معلوم ہوگا نہ کہ فرعون کے کلمہ سے ۔ پھر آپ کو معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی خصوصی مدد سے فرعون کو، اس کے لشکر کو اور اس کی تمام طاقت کو سمندر میں غرق کر دیا۔ اس کے بعد مصر میں موسیٰ کے لئے میدان بالکل صاف تھا ۔ وہ نہایت آسانی سے مصر کے دارالسلطنت میں داخل ہو کر ملک کی حکومت اپنے ہاتھ میں لے سکتے تھے۔ مگر حضرت موسیٰ نے ایسا نہیں کیا۔ اس کے برعکس وہ صحرائے سینا کے غیر آباد علاقہ میں چلے گئے قرآن میں جو لفظ لکھا ہوا تھا وہ ” دویدن “ تھا مگر پڑھنے والے نے اپنے ذہنی رجحان کی وجہ سے اس کو ” دو بدن “ پڑھ لیا۔
غالباً دس سال پہلے کی بات ہے۔ مجھے مالیگاؤں کے ایک مدرسہ کے سالانہ جلسہ میں تقریر کے لئے بلایا گیا۔ کافی بڑا اور سجا ہوا پنڈال تھا۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ شامیانہ کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے۔ میں جب مائک کے سامنے آیا تو میری زبان سے نکلا ؛ ”میں تقریر نہیں کروں گا بلکہ بے تقریر پیش کروں گا“۔ یہ سن کر منتظمین اور سامعین کے اندر عجیب بے چینی پیدا ہو گئی۔ وہ سمجھے کہ میں واقعہ تقریر نہیں کروں گا بلکہ تقریر کے بغیر بیٹھ جاؤں گا۔ یہ دیکھ کر میں نے دوبارہ
‹ Previous page Next page › Contents of June 1985 All issues