ایک تقریر
الرسالہ، جون ۱۹۸۵، صفحہ ۲۷
کہا کہ میرا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں سرے سے تقریر نہیں کروں گا۔ میرا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ میں کہوں گا وہ عام معنوں میں کوئی تقریر نہیں بلکہ ایک بے تقریر ہوگی۔
آج بھی میں اپنے ذہن میں اسی قسم کی کیفیت محسوس کر رہا ہوں۔ میرے پاس جو کچھ کہنے کے لئے ہے وہ ایک ''بے تقریر‘‘ ہے پھر کیسے ان لوگوں کو مطمئن کیا جائے جو اس چیز کو سننے کے لئے اجتماعات میں آتے ہیں جس کو تقریر کہا جاتا ہے۔ آہ ، ایک ایسا اجتماع کیسے کیا جائے جو بے اجتماع ہوتا ہے۔ ایک ایسی بات کیسے کہی جائے جو کہنے میں نہیں آتی۔ حق یہ ہے کہ جہاں الفاظ ختم ہو جائیں وہاں سے معانی کا آغاز ہوتا ہے۔ جہاں زبان گنگ ہو جائے وہاں سے بات شروع ہوتی ہے۔ پھر کیسے وہ بات کہی جائے جو لفظوں میں نہیں سمائی۔ کیسے وہ حقیقت کھولی جائے جس کو کھولنے کی طاقت انسان کے پاس نہیں۔
میرے دوستو ، یہ کوئی اجتماع اور تقریر کا معاملہ نہیں۔ یہ تو دل کے ساز پر ربانی نغمہ چھیڑنے کا معاملہ ہے۔ دنیا کا نغمہ مادی ساز کے تاروں پر چھڑتا ہے ہر گیت کار دکان سے ایک ساز خرید کر اپنے راگ فضا میں بکھیر سکتا ہے اور لاؤڈ اسپیکر کے ذریعہ اس کو ہر کان میں داخل کر سکتا ہے۔ مگر آخرت کا نغمہ بازار سے خریدے ہوئے ساز پر نہیں چھڑتا۔ وہ تو دل کے ساز پر چھڑتا ہے۔ اور آدمی کا حال یہ ہے کہ ہر آدمی اپنے دل کے ساز کو اپنے سینہ کے اندر بند کئے ہوئے ہے۔ پھر وہ نغمہ کیسے چھیڑا جائے جو صرف دل کے چھپے ہوئے تاروں پر چھڑتا ہے۔ وہ ساز کیسے بجایا جائے جو معانی کی زبان میں بجتا ہے اور روح کے کانوں سے سنا جاتا ہے۔
افراد کی سطح پر ہر زمانہ میں کچھ اللہ والے ہوتے ہیں۔ مگر اجتماعی سطح پر حقیقی اسلامی انقلاب تاریخ میں صرف ایک ہی بار پیش آیا۔ نہ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد۔ اس کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ صرف ایک ہے۔ تاریخ میں ایک ہی بار یہ واقعہ ہوا کہ انسانوں کی ایک جماعت نے اپنے دل حق کے حوالے کر دئے۔ انھوں نے اپنے سینہ کا ڈھکن کھول دیا کہ اس کے تاروں کو چھیڑا جائے۔ تاکہ ان کی فطرت کے ساز پر حق کا نغمہ گایا جا سکے۔ وہی وہ لوگ ہیں جن کے بارہ میں خدا نے کہا کہ رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ ورنہ تاریخ کے ہر دور میں تو یہی کچھ پیش آتا رہا جس کی تصویر اس آیت میں کھینچی گئی ہے ــــــ يا حسرة على العباد ما ياتيهم من رسول الا كانوا به يستهزؤن
‹ Previous page Next page › Contents of June 1985 All issues