ایک تقریر
الرسالہ، جون ۱۹۸۵، صفحہ ۲۹
قومی سیاست کا ضمیمہ بنالیا۔ اس صورت حال کو بدلنا ہے۔ اسلام کو آخرت کی صراطِ مستقیم کے طور پر دنیا کے سامنے لانا ہے۔ مسلمانوں اور دوسری قوموں کے درمیان داعی اور مدعو کے رشتہ کو بحال کرنا ہے۔
آج جو صورت حال ہے اس نے اس کام کو وقت کا مشکل ترین کام بنادیا ہے۔
۱۹۴۵ء میں تاریخ میں پہلی بار یہ واقعہ ہوا کہ جاپان کے اوپر دو ایٹم بم گرایا گیا جس نے جاپان کی معاشیات کو بالکل برباد کر دیا۔ اس کے بعد جاپانی بادشاہ ہیرو ہٹو نے ریڈیو پر ایک تقریر کی۔ اس مختصر تقریر میں اس نے کہا :
ہمیں ایک ناقابل برداشت کو برداشت کرنا ہے۔ تاکہ ہم جاپان کی اگلی نسلوں کی تعمیر نو کر سکیں۔
کسی بھی چیز کی نئی تاریخ ہمیشہ قربانی کی قیمت پر بنتی ہے ۔
قرآن میں بہت سے مقامات پر یہ بات کہی گئی ہے کہ اے ایمان لانے والو، میری مدد کرو۔ جس کے بدلے میں تم کو میں بہت بڑا انعام دوں گا دیا ایھا الذین امنوا ان تنصر اللہ ينصركم ويثبت اقدامکم ، محمد ۷ ) من ذا الذي يقرض الله قرضا حسنا فيضـٰعفه له ، حدید ۱۱) خدا تمام زمین و آسمان کا مالک ہے ہر قسم کی طاقتیں اسی کے پاس ہیں۔ وہ کسی کام کے لئے بھی کسی کا محتاج نہیں۔ اس کے باوجود یہ کہنا کہ میری مدد کرو ، مجھے قرض دو ، ظاہر کرتا ہے کہ خدا کی اتھاہ سلطنت میں کوئی گوشہ ایسا بھی ہے جہاں خدا کو اپنے بندوں کی مدد کی ضرورت ہے۔ اور ظاہر ہے کہ کسی بندے کی اس سے بڑی خوش قسمتی نہیں ہو سکتی کہ وہ اپنے رب کے لئے استعمال ہو۔ اس کا وجود اپنے خدا کے کسی کام میں آجائے۔
یہ خدا کا کام کیا ہے جس کی ادائیگی کے لئے اسے بندوں کی ضرورت ہے۔ یہ اعلان حق کا کام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو ایک خاص منصوبہ کے تحت بنایا ہے۔ یہ منصوبہ امتحان کا منصوبہ ہے یعنی لوگوں کو پیدا کر کے انھیں آزاد ماحول میں رکھنا اور پھر دیکھنا کہ کون خدا کا تابع دار بن کر رہتا ہے اور کون اس کا سرکش بن جاتا ہے۔ اس کے بعد خدا دوسری کامل دنیا بنائے گا جہاں اپنے وفادار بندوں کو جنت میں داخل کرے گا اور سرکش لوگوں کو جہنم میں دھکیل دے گا۔ اس امتحانی
‹ Previous page Next page › Contents of June 1985 All issues