Al-Risala · June 1985 · page 30

ایک تقریر

الرسالہ، جون ۱۹۸۵، صفحہ ۳۰

منصوبہ کا تقاضا تھا کہ پورے معاملہ کو غیب میں رکھا جائے۔ اگر خدا اور فرشتے اور جنت اور دوزخ سب سامنے ہوں تو پھر امتحان کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔

خدا نے اپنے منصوبہ کو اشارات (آیات) کی زبان میں پوری کائنات میں پھیلا دیا ہے کائنات کی ہر چیز حد درجہ خدائی کنٹرول میں رہ کر بتا رہی ہے کہ یہاں انسانوں کو بھی اس طرح پابند زندگی گزارنا ہے جس طرح ساری کائنات پابند نظام پر چل رہی ہے۔ اسی کے ساتھ انسان کی فطرت میں خیر و شر کی تمیز رکھ دی گئی ہے۔ جو ہر وقت خاموش زبان میں اندر سے بولتی رہتی ہے کہ وہ کیا کرے اور کیا نہ کرے۔

تاہم فطرت اور کائنات میں ہدایت کے اس انتظام کو خدا نے کافی نہیں سمجھا۔ کیوں کہ وہ انتہائی مکمل ہونے کے باوجود بہر حال خاموش زبان میں تھا۔ خدا نے چاہا کہ نطق کی زبان میں بھی انسان کو حقیقت واقعہ سے باخبر کر دیا جائے تاکہ فیصلہ کے دن کسی کو یہ کہنے کا موقع نہ رہے کہ آپ ہم کو ایسے جرم کی سزا دے رہے ہیں جس سے ہمیں باخبر نہیں کیا گیا تھا۔ خدا کی طرف سے انسان کے اوپر آخری طور پر اتمام حجت ہو جائے (النساء ۱۶۵)

یہی وہ مقام ہے جہاں خدا کو انسان کی ضرورت ہے۔ خدا نے اپنے امتحانی منصوبہ کی وجہ سے ایسا کیا ہے کہ اپنی وسیع سلطنت کے ایک خاص گوشہ میں سارا اختیار رکھتے ہوئے اپنے کو بے اختیار کر لیا ہے۔ وہ زبان رکھتے ہوئے یہاں خاموش ہے۔ عیاں ہوتے ہوئے اس نے اپنے آپ کو یہاں چھپا دیا ہے۔ ہر قسم کی قدرت رکھتے ہوئے اس نے اپنے آپ کو بے قدرت کر لیا ہے۔ اب خدا کو کچھ انسان درکار ہیں جو لوگوں کے سامنے خدا کے نمائندے بن کر کھڑے ہوں۔ جو خدا کی زبان سے بولیں ۔ جو چھپی ہوئی حقیقتوں کو اس طرح نمایاں کریں کہ وہ لوگوں کو کھلی ہوئی حقیقتوں کی طرح نظر آنے لگیں ۔ وہ خدا کی جنت اور جہنم کو بے پردہ کر کے لوگوں کے سامنے رکھ دیں۔ یہ کام کوئی لاؤڈ اسپیکر سے اعلان کرنے کا کام نہیں ہے۔ یہ خدائی مشن میں کامل درجہ کی شمولیت چاہتا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ آدمی اللہ کے کام کو اپنا کام بنائے۔ وہ زندگی اور مال کی ہر قیمت دینے کے لئے تیار ہو جائے۔ وہ اپنے آپ کو اتنا زیادہ اس میں شامل کرے کہ جو حقیقتیں کا ئناتی سطح پر غیب میں ہیں وہ اس کی ذات کی سطح پر مشہور و واقعہ بن جائیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1985 All issues

Printed page