ایک تقریر
الرسالہ، جون ۱۹۸۵، صفحہ ۳۱
دہلی میں کچھ لوگ ہمارے یہاں آئے۔ انہوں نے الرسالہ کی بہت تعریف کی۔ میں نے پوچھا کہ الرسالہ کی کیا چیز آپ کو پسند آئی۔ انہوں نے کہا کہ الرسالہ میں سائنسی مضامین ہوتے ہیں اور ہم کو پسند ہے کہ اسلام کو سائنسی انداز میں پیش کیا جائے۔ کسی نے کہا کہ الرسالہ میں چھوٹے چھوٹے واقعات سے بڑے بڑے سبق نکالے جاتے ہیں۔ کسی نے کہا کہ الرسالہ میں اقتصادی تعمیر کو بہت مؤثر انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔
اس میں شک نہیں کہ یہ باتیں الرسالہ میں ہوتی ہیں۔ مگر وہ ضمنی اور اضافی ہیں۔ یہی باتیں الرسالہ کا مشن نہیں ہیں۔ ہمارا مقصد اسلام کا سائنسی مشاعرہ کرنا نہیں ہے۔ اور نہ کس قسم کے پر لطف ادب کا بازار لگانا ہے۔ الرسالہ کا مشن اس سے کہیں زیادہ آگے ہے۔ ایسے لوگوں کے متعلق میں کہوں گا کہ انھوں نے ابھی تک الرسالہ کو نہیں پڑھا۔ اگر انھوں نے اس کو پڑھا ہوتا تو وہ کہتے کہ الرسالہ میں قیامت کی کڑک ہوتی ہے۔ اس میں حشر ونشر کی ہولناکیاں ہوتی ہیں۔ اس میں جنت اور جہنم کے مناظر ہوتے ہیں۔ اس میں خدائے ذو الجلال کی تجلیاں ہوتی ہیں۔ الرسالہ کی اصل چیزیں یہی ہیں۔ اسی شخص نے الرسالہ کو پڑھا ہے جس نے الرسالہ کو اس حیثیت سے پایا ہے۔
جیسا کہ اعلان کیا گیا تھا ، یہ اجتماع الرسالہ کے مشن سے اتفاق رکھنے والوں کا اجتماع ہے۔ جو لوگ الرسالہ کو گہرائی کے ساتھ پڑھتے رہے ہیں ان کے لئے یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ اس اجتماع کا مقصد اور اس کی نوعیت کیا ہے۔ تاہم آغاز ہی میں صاف لفظوں میں میں یہ کہہ دینا چاہتا ہوں کہ یہ اجتماع ہم نے اس لئے نہیں کیا ہے کہ ہم یہاں کوئی سائنسی مشاعرہ کریں یا ادبی اور تقریری کرتب کے نمونے آپ کے سامنے پیش کریں۔ اس قسم کی مصروفیت کو نہ ہم اپنے لئے جائز سمجھتے اور نہ آپ کے لئے۔ یہ اجتماع تو در حقیقت صرف اپنے جائزہ کے لئے کہا گیا ہے۔ اس کا اگر کوئی عنوان ہو سکتا ہے تو وہ حدیث کے الفاظ میں صرف یہ ہے کہ ــــــ حاسبو انفسکم قبل ان تحاسبوا ( اپنا حساب کر لو قبل اس کے کہ تمہارا حساب کیا جائے) عقل مند انسان وہ ہے جو خود ہی اپنا جائزہ لے لے۔ کیوں کہ جس کا جائزہ قیامت میں لیا جا ے گا وہ ہلاک ہوا۔ فمن نوقش فقد هلك)
‹ Previous page Next page › Contents of June 1985 All issues