رو داد سفر
الرسالہ، جون ۱۹۸۵، صفحہ ۳۷
پاس ایک مسجد بنائی جوان کے نام پر آسٹریلیا مسجد (جامع آسٹریلیا) مشہور ہوگئی۔ میں ریلوے اسٹیشن سے باہر نکلا تو یہی مسجد میرے سامنے تھمی۔ چنانچہ میں نے آسٹریلیا مسجد میں اپنا مختصر سامان رکھا اور ایک اجنبی مسافر کی حیثیت سے شہر میں داخل ہوا۔ میں کسی منصوبہ اور معلومات کے بغیر مختلف سڑکوں پر گھومتا رہا۔ یہاں تک کہ میں میورڈ پہنچ گیا۔ یہاں سڑک کے کنارے ایک چھوٹے سے بورڈ نے بتایا کہ یہ ڈاکٹر اقبال (۱۹۳۸ء - ۱۸۷۷ء) کا مکان ہے۔ مکان بالکل اجاڑ دکھائی دے رہا تھا۔ میں وہاں ٹھہر گیا۔ سڑک سنسان تھی۔ میں بجلی کے ایک کھمبے کے نیچے اکیلا کھڑا تھا۔ میری آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے اور میری زبان پر یہ الفاظ جاری تھے :
خداوند تو کب آئے گا۔ میں کب تک تیرے آنے کا انتظار کروں یہ دعائیہ کلمہ میری اس آتشیں کیفیت کو بتا رہا ہے جس کے تحت میں اس زمانہ میں لاہور گیا اور دوسرے مقامات کے سفر کئے۔
طبیعت کچھ تھی تو مجھ کو پیاس کا احساس ہوا۔ اقبال کے مکان سے ملی ہوئی سڑک کے کنارے ایک چھوٹی سی معمولی طور پر بنی ہوئی مسجد دکھائی دی۔ میں وہاں پہنچا۔ دیکھا تو ایک ہینڈپمپ لگا ہوا تھا۔ میں ہینڈ پمپ چلانے لگا۔ مگر دیر تک چلانے کے بعد بھی پانی نہیں نکل رہا تھا۔ اتنے میں ایک شخص سڑک سے گزرا۔ وہ میری حالت کو محسوس کر کے میری مدد کے لئے آیا۔ اس نے غور سے دیکھا اور پھر بتایا کہ پانی برابر آ رہا ہے مگر باہر کی ٹونٹی بند ہے اس لئے سارا پانی پچھلے پائپ سے گزر کر حوض میں چلا جاتا ہے۔ اس نے ٹونٹی کھولی تو فوراً میرے سامنے پانی گرنے لگا۔ یہ میری زندگی کا پہلا " تعمیری " سبق تھا۔ اس واقعہ نے مجھے بتایا کہ اس دنیا میں صرف عمل کافی نہیں ۔ عمل کے نتیجہ خیز بننے کے لئے دوسرے بہت سے اسباب کی موافقت بھی ضروری ہے۔ اگر کوئی ایک ضروری سبب بھی موافقت نہ کر رہا ہو تو سارے عمل کے باوجود کوئی نتیجہ حاصل نہ ہوگا۔ یہ آدمی جس نے میری مدد کی اس کا پورا نام اب یاد نہیں رہا۔ صرف یہ یاد ہے کہ اس کے نام کے آگے قریشی کا لفظ شامل تھا۔ پانی پینے کے بعد قریشی صاحب مجھے اپنے چھوٹے سے مکان پر لے گئے۔ اس کے بعد بقیہ ایام میں نے انھیں کے ساتھ گزارے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1985 All issues