دوسرا سفر
الرسالہ، جون ۱۹۸۵، صفحہ ۳۸
اس وقت لاہور کی مال روڈ ( موجودہ شاہراہ قائد اعظم ) پر ٹیلرنگ کی ایک بڑی دکان تھی جس کا نام بی سیلارام اینڈ سنز تھا۔ یہاں کے ٹیلر ماسٹر ایک مسلمان تھے قریشی صاحب نے مجھ کو ان ٹیلر صاحب سے ملایا۔ مجھے دیکھ کر انھوں نے کہا’’ یہ کسی اچھے خاندان کا لڑکا ہے اور غلطی سے یہاں آگیا ہے‘‘ انھوں نے اصرار کر کے مجھے واپسی پر آمادہ کیا۔ دو ہفتے کے بعد انھوں نے ٹکٹ خرید کر مجھے ٹرین پر بٹھا دیا اور میں اپنے وطن اعظم گڑھ واپس آگیا۔ جہاں تک یاد ہے واپسی ٹکٹ کا کرایہ میرے پاس نہیں تھا۔ وطن واپس آنے کے بعد میں نے منی آرڈر کے ذریعہ ٹیلر صاحب کی رقم انھیں بھیج دی۔
۲۷ مارچ ۱۹۸۵ کو میں نے دوبارہ میو روڈ جا کر اسے دیکھا’’ جاوید منزل ‘‘ اب’’علامہ اقبال میوزیم‘‘ بن چکا ہے۔ مکان کا تعمیری نقشہ وہی پرانا ہے۔ البتہ اس کو از سر نو مزین کیا گیا ہے۔ ایک تختی پر علامہ اقبال کے مختصر حالات لکھے ہوئے تھے ۔ اس میں یہ فقرہ بھی تھا: ۱۹۳۰ء میں الہ آباد کے مقام پر اپنے تاریخی خطبہ میں اس مسلم ریاست کا تصور پیش کیا جو اب پاکستان کی صورت میں قائم ہے۔
جاوید منزل سے ملی ہوئی چھوٹی سی مسجد رقبہ کے اعتبار سے اب بھی اتنی ہی بڑی ہے۔ البتہ اس کو دوبارہ دو منزلہ صورت میں تعمیر کیا گیا ہے۔
میوروڈ تعمیری لحاظ سے اب بھی تقریبا ویسا ہی نظر آیا جیسا کہ وہ ۴۰ سال پہلے تھا۔ اس فرق کے ساتھ کہ اب یہاں انسان زیادہ نظر آنے لگے ہیں۔ جب کہ ۱۹۴۵ میں وہ ایک سنسان سڑک کی مانند تھی۔
ریلوے اسٹیشن بھی معمولی اضافہ کے ساتھ تقریباً ویسا ہی ہے جیسا کہ وہ ۴۵ ۱۹ میں تھا۔ کوئی بڑی تبدیلی مجھے وہاں دکھائی نہیں دی۔
دوسرا سفر
لاہور کے لئے میرا دوسرا سفر فیروز پور کے راستہ سے مئی - جون ۱۹۴۷ء میں ہوا۔ ۱۹۴۵ میں میں نے جو سفر کیا وہ ایک ہی ملک کے ایک حصے سے اس کے دوسرے حصے میں جانا تھا۔ اس وقت کسی ’’سرحد‘‘ کا وجود نہ تھا جہاں چیکنگ کی ضرورت پیش آئے۔ مگر ۱۹۴۷ء میں تاریخ بدل
‹ Previous page Next page › Contents of June 1985 All issues