Al-Risala · June 1985 · page 39

دوسرا سفر

الرسالہ، جون ۱۹۸۵، صفحہ ۳۹

چکی تھی۔ اب میں دہلی سے لاہور کے لیے روانہ ہوا تو میں ایک ملک سے دوسرے ملک میں جا رہا تھا چنانچہ سرحد پر زبر دست چیکنگ کا سامنا کرنا پڑا۔

ہندوستانی چوکی پر نہ جاتے ہوئے کوئی خاص زحمت پیش آئی اور نہ آتے ہوتے۔ مگر پاکستانی چوکی پر ایسی سخت پریشانی پیش آئی کہ میں نے سوچا کہ میرے جیسے آدمی کو پاکستان جانا ہی نہیں چاہیے۔

واپسی میں پاکستانی چوکی پر متعین آدمی کا ظالمانہ رویہ اپنی آخری حد کو پہنچ گیا۔ میں جون کی تیز دھوپ میں کھلے میدان میں کھڑا ہوا تھا۔ خدا اور اسلام کا کوئی بھی حوالہ اس آدمی کے لیے بے اثر ثابت ہو رہا تھا۔ جو میری تمام کتابیں اور اوراق بکھیر کر میز کی دوسری طرف مجھے اس طرح فاتحانہ انداز میں دیکھ رہا تھا کہ میں کوئی مجرم ہوں۔ اس کا کھلا مطالبہ تھا کہ جو کچھ پیسہ تمہارے پاس ہے وہ سب ہمارے حوالے کرو۔ ورنہ ہم جانے نہیں دیں گے۔

میں بے بس کھڑا ہوا تھا کہ اچانک ایک تدبیر میرے ذہن میں آئی۔ جاتے ہوئے میں نے دیکھا تھا کہ پاکستان کی سمت میں ایک خیمہ لگا ہوا ہے جس میں ایک فوجی افسر ڈیوٹی پر رہتا ہے۔ جاتے ہوئے اتفاقاً میری اس سے کچھ بات چیت ہو گئی تھی۔ جب میں نے دیکھا کہ تفتیش کا آدمی مجھ کو چھوڑ نہیں رہا ہے تو میں نے کہا ” یہ میجر صاحب مجھ کو جانتے ہیں کہئے تو ان کو بلا دوں “ اس جملہ نے جادو کا کام کیا اس کو سنتے ہی فی الفور آدمی کا رویہ بدل گیا۔ اس نے میرے بیگ سے ایک سادہ ڈائری نکالی اور کہا کہ جائیے۔

کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جو خدا سے اتنا بھی نہیں ڈرتے جتنا وہ ایک فوجی افسر سے ڈرتے ہیں۔

لاہور پہنچ کر میں آٹو رکشا کے ذریعہ مولانا امین اصلاحی کے گھر کی طرف روانہ ہوا۔ قریب پہنچ کر ڈرائیور نے کچھ لوگوں سے پوچھا ” امین اصلاحی کا گھر کون سا ہے “ مگر لوگ سمجھ نہ سکے۔ کسی نے کہا ” امین احسن مودودی “ کسی نے کہا ” ابو الاعلیٰ اصلاحی “ لوگ نہ پوری طرح مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کو جانتے تھے اور نہ پوری طرح مولانا امین اصلاحی کو۔

یہ وہ وقت تھا جب کہ جنرل یحییٰ خاں کی حکومت کے تحت ابھی حال میں جماعت اسلامی پاکستان

‹ Previous page Next page › Contents of June 1985 All issues

Printed page