دوسرا سفر
الرسالہ، جون ۱۹۸۵، صفحہ ۴۰
نے الیکشن میں ناکام حصہ لیا تھا۔ لاہور کی دیواروں پر اب بھی ایسے پوسٹر لگے ہوئے تھے جو اگرچہ پھٹ چکے تھے، تاہم ان پر جلی حرفوں میں یہ الفاظ لکھے ہوئے پڑھے جاتے تھے :
ان شاء اللہ جیتے گی ، جماعت اسلامی جیتے گی۔
جدید اسلامی تاریخ کا یہ ایک عجوبہ ہے وہ لوگ جن کا تعارف ملک کے صرف ۵ فی صد تعلیم یافتہ طبقہ میں ہے وہ الکشن میں کودتے ہیں جہاں جاہل عوام کی اکثریت کی رائے فیصلہ کن ہوتی ہے۔ اور اس سے بھی زیادہ بڑا عجوبہ یہ ہے کہ ان کا یہ بے معنی اقدام جب انہیں ناکامی سے دوچار کرتا ہے تو وہ فوراً یہ شور کرنے لگتے ہیں کہ الکشن میں دھاندلی ہوئی ہے۔ ان کے اندر نہ اتنی عقل ہے کہ سیاسی معاملات کو سمجھیں اور نہ اتنا حوصلہ ہے کہ اپنی شکست کا اعتراف کریں۔
لاہور میں میری ملاقات خاص طور پر مولانا مودودی سے ہوئی وہ کافی کمز ور ہو چکے تھے چھڑی ٹیک کر بہت آہستہ آہستہ چلتے تھے۔ پہلی ملاقات ان کے مطالعہ کے کمرہ میں ہوئی ۔ مجھے یہ دیکھ کر سخت تعجب ہوا کہ ان کا مطالعہ کا کمرہ ایک ایسا کمرہ ہے جہاں روشنی صرف بجلی کے بلب کے ذریعہ حاصل کی جاتی ہے۔ راقم الحروف کا ذوق اس معاملہ میں یکسر مختلف ہے۔ میں لکھنے پڑھنے کا کام ایسے کمرہ میں کرنا پسند کرتا ہوں جہاں سورج کی روشنی پوری طرح آتی ہو۔ اس میں صرف رات کا استثنا ہے۔ کیوں کہ رات کے وقت مصنوعی روشنی ایک ضرورت بن جاتی ہے۔
مولانا ابوالاعلیٰ مودودی سے ملاقات ہوئی تو ان کو میں نے الجمعیتہ ویکلی کا ایک شمارہ (۲۷ نومبر ۱۹۰۷ء) پیش کیا۔ اس کو لیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ” میں اس کو پڑھوں گا۔ آپ کی کوئی چیز ملتی ہے تو میں ضرور اس کو پڑھتا ہوں“۔
الجمعیتہ کے اس شمارہ میں ایک مضمون تھا جس میں مسلم ممالک میں اسلامی احیار کے امکانات پر گفتگو تھی ۔ اگلی ملاقات میں اس پر اظہار خیال کرتے ہوئے مولانا مودودی نے کہا ” آپ جیسے لوگ مسلم ممالک کے بارہ میں کافی خوش فہم رہتے ہیں ۔ حالانکہ موجودہ مسلم ممالک میں اسلامی کام کے مواقع اس سے بھی کم ہیں جتنا غیر مسلم ممالک میں ہیں“۔
میں نے کہا کہ اس کی وجہ اسلامی تحریکوں کی کہ یہ نادانی ہے کہ وہ ملے ہوئے مواقع کا بیجا استعمال کرتی ہیں۔ مسلم ممالک کی موجودہ اسلامی تحریکوں نے اسلام کا ایسا تعارف کرایا ہے گویا کہ اسلام
‹ Previous page Next page › Contents of June 1985 All issues