خاکسار ابوالاعلیٰ
الرسالہ، جون ۱۹۸۵، صفحہ ۴۲
بات کرتے رہے۔ وہ اگرچہ نہایت کمزور اور مریض تھے، تاہم انھوں نے اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کافی دلچسپی کا اظہار کیا۔
ملاقات سے پہلے مولانا مودودی کے رفیق خاص (غالباً رحمت الہی صاحب) نے کہا تھا کہ مولانا کی طبیعت بہت ناساز ہے۔ اس لئے ان سے کوئی اختلافی بات نہ چھیڑی جائے۔ وہ ملاقات کے وقت برابر میرے پاس بیٹھے رہے۔ جب میں باہر نکلا تو میں نے مذکورہ رفیق سے کہا کہ میں بعض امور پر بات کرنا چاہتا تھا مگر وہ نہ ہو سکی۔ انھوں نے دوبارہ وہی بات کہی کہ موجودہ حالت میں اختلافی امور پر بات کرنا مناسب نہیں ہے۔ کافی اصرار کے بعد وہ اس پر راضی ہوئے کہ میں جو بات کرنا چاہتا ہوں اس کا خلاصہ پیشگی طور پر لکھ کر انھیں دے دوں۔
میں نے وہیں بیٹھ کر ایک کاغذ پر چند سطریں لکھیں۔ اس تحریر کی نقل میرے پاس محفوظ نہیں ۔ مفہوم کے اعتبار سے وہ بات یہ تھی کہ ـــــــــــــ پاکستان اسلام کے نام پر بنا۔ اس سے آپ نے قیاس کیا کہ پاکستان کے لئے مسلم لیگ نے جو مومنٹم پیدا کیا تھا اس کو آپ اپنی تحریک کے لئے استعمال کرسکتے ہیں۔ چنانچہ آپ نے پوری طرح اپنی جماعت کو اس رخ پر ڈال دیا۔ مگر آپ کا یہ اندازہ صحیح نہیں تھا۔ یعنی اور عقلی طور پر ایسا ہونا نا ممکن ہے کہ کسی کی پیدا کردہ حرکت کو کوئی دوسرا شخص اپنے حق میں استعمال کرسکے۔ اس قسم کی کوشش کا انجام نا کامی کے سوا اور کچھ نہیں۔ اس لئے آپ کے لئے صحیح طریقہ یہ ہے کہ آپ الکشن اور مطالبہ نظام اسلامی جیسی سیاست کو چھوڑ کر دوبارہ وہی اصلاحی اور تدریجی انداز اختیار کریں جس پر آپ تقسیم سے پہلے عامل تھے۔
میری یہ تحریر مولانا مودودی کے حوالے کر دی گئی ۔ اور میں یہ کہہ کر واپس آگیا کہ کل میں دوبارہ ملاقات کروں گا اور اس موضوع پر براہ راست گفتگو کروں گا۔ اگلے دن میں عصر کی نماز کے وقت اچھرہ (۵۔ اے ذیل دار پارک ) پہنچا تو پہلے دن کے برعکس مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کا چہرہ بالکل بدلا ہوا تھا۔ وہ سخت برہم نظر آتے تھے۔ میں نے مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کے رفیق خاص کے مشورہ پر عمل کیا اور مولانا کی ناسازی طبع کی بنا پر اختلافی مسئلہ پر گفتگو کئے بغیر واپس چلا آیا۔ عصر اور مغرب کی نمازیں میں نے ان کے ساتھ اچھرہ میں پڑھیں۔
۱۹۷۱ء میں جب میں ہندوستان سے پاکستان پہنچا تو مجھے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے میں دوسرے
‹ Previous page Next page › Contents of June 1985 All issues