Al-Risala · June 1985 · page 23

خاکسار ابوالاعلیٰ

الرسالہ، جون ۱۹۸۵، صفحہ ۲۳

درجہ کے ایک ملک میں آگیا ہوں ۔ وہاں کی ہر چیز مجھے ہندوستان کے مقابلہ میں معمولی نظر آئی ۔ وہاں کی ٹرین ، وہاں کی بسیں ، وہاں کے پارک ، وہاں کے مکانات ، سب نمایاں طور پر کمتر دکھائی دئے ۔ وہاں کے اخبارات کا حال یہ تھا کہ میں نے ایک پاکستانی تعلیم یافتہ سے کہا کہ میری سزا کے لئے یہ کافی ہے کہ مجھے کسی مکان میں بند کر کے پابند کر دیا جائے کہ تم پاکستان کے اخبارات پڑھتے رہو۔ معمولی معمولی چیزیں مثلاً دروازہ کے بولٹ اور قلم کی سیاہی بھی چین کی بنی ہوئی نظر آئی ۔ تاہم ۱۹۸۵ کے سفر میں محسوس ہوا کہ پچھلے پندرہ سال میں پاکستان نے کافی ترقی کی ہے ۔ ہر شعبہ میں پہلے کے مقابلہ میں زیادہ بہتر حالات نظر آئے ۔

۱۹۷۱ کے سفر کی یادوں میں سے ایک یاد یہ ہے کہ ایک روز رات کا وقت تھا۔ میں اپنے میزبان کے ساتھ ان کے دو منزلہ مکان کی چھت پر کھڑا ہوا تھا۔ چاند کی چاندنی پوری آب و تاب کے ساتھ فضا میں پھیلی ہوئی تھی ۔ ہم دونوں خاموش قدرت کے اس منظر کو دیکھ رہے تھے ۔ اچانک میرے میزبان نے گہرے تاثر کے انداز میں کہا :

" یہی چاند تو ہندوستان میں بھی چمکتا ہوگا "

کیسی عجیب ہے وہ دنیا جہاں چاند کو ایک ملک سے لے کر دوسرے ملک تک چمکنے کی اجازت ہو مگر انسان کے لئے حد بندیاں کھڑی ہوئی ہوں ۔ چڑیاں آزادانہ طور پر ایک طرف سے دوسری طرف اڑ رہی ہوں مگر انسان ایک علاقہ سے دوسرے علاقہ میں جانا چاہے تو بے رحم سرحدی قوانین وہاں اس کا استقبال کرنے کے لئے موجود ہوں ۔ کتنا خوش قسمت ہے چاند ۔ اور کتنا بد قسمت ہے انسان ۔ آسٹریلیا کو چھوڑ کر تمام براعظموں (ایشیا، یورپ، افریقہ، امریکہ) ہر جگہ مجھے جانے کا اتفاق ہوا ہے۔ جب بھی میں کسی دوسرے ملک میں گیا تو مجھے محسوس ہوا کہ میں ہندوستان سے مختلف ایک ملک میں آیا ہوں ۔ مگر ہندوستان سے پاکستان جانا گویا ہندوستان سے ہندوستان میں جانا ہے ۔ دونوں ملکوں میں اتنی زیادہ مشابہت ہے کہ یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ آدمی ایک ملک سے دوسرے ملک میں پہنچ گیا ہے۔ اس کے باوجود ہندوستان اور پاکستان کے ایئر پورٹ پر دونوں ملکوں کے مسافروں کی جتنی تفتیش کی جاتی ہے اتنی تفتیش شاید کسی بھی دوسرے ملک میں آنے جانے والوں کی نہیں کی جاتی۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1985 All issues

Printed page