خاکسار ابوالاعلیٰ
الرسالہ، جون ۱۹۸۵، صفحہ ۲۴
بنگلور میں تبلیغی جماعت کا اجتماع ۲۳-۲۵ فروری ۱۹۸۵ء کو ہوا۔ اس موقع پر الرساله اور اس کی مطبوعات کا اسٹال لگایا گیا۔ خدا کے فضل سے اسٹال کامیاب رہا۔ کافی لوگوں نے کتابیں دیکھیں اور خرید کر اپنے ساتھ لے گئے۔ ایک تعلیم یافتہ صاحب اسٹال پر آئے۔ وہ الرساله کے مشن سے پہلے سے واقف تھے۔ انھوں نے کہا کہ الرساله میرے گھر والوں کی غذا ہے۔ پھر انھوں نے حاضرین کو مخاطب کر کے کہا۔ ”یہ کتابیں میں نے پڑھی ہیں۔ یہ کتابیں بندہ کو خدا سے ملانے والی ہیں۔ جو شخص بھی اپنا تعلق خدا سے جوڑنا چاہتا ہے اس کو یہ کتابیں ضرور پڑھنا چاہئے۔ میں اپنے بارہ میں آپ کو بتاتا ہوں کہ میں نے ان کتابوں کے ذریعہ حقیقی معنوں میں خدا کو پایا ہے۔ ۳۱ مارچ ۱۹۸۵ کی شام کو مرکز میں ماہانہ درسِ قرآن کا اجتماع ہوا۔ یہ اجتماع ہر مہینہ کی آخری اتوار کو نماز مغرب کے بعد ہوتا ہے۔ اس بار اخبار قومی آواز میں اس کا اعلان کر دیا گیا تھا۔ چنانچہ حاضرین کی تعداد غیر معمولی طور پر زیادہ تھی ۔ صدر اسلامی مرکز نے اس موقع پر جو درس دیا اس کا ٹیپ مرکز میں محفوظ ہے۔
اسلامی مرکز اب خدا کے فضل سے اس حد تک معروف ہو چکا ہے کہ اس کا تذکرہ عالمی خبروں میں جگہ پانے لگا ہے۔ مثال کے طور پر الرسالہ کے ایک بیرونی قاری کا خط (۲۹ اپریل ۱۹۸۵) ہمیں موصول ہوا ہے۔ مکتوب نگار نے اپنے خط میں جو باتیں لکھی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے: Abdus Salam was listening to a Kuwaiti radio station the other day. They mentioned Maulana's book: الا سلام يتحدى during one of their talks: كما قال و حيد الدين خان في كتابه It seems that this book is very well known in the Arab world. ۱۳ اپریل ۱۹۸۵ کی شام کو گول مارکٹ (نئی دہلی) میں ایک اجتماع ہوا۔ صدر اسلامی مرکز نے اس موقع پر تعلیم یافتہ اصحاب کے سامنے ملی مسائل پر اظہار خیال کیا۔ ان کی گفتگو کا خلاصہ یہ تھا کہ یہ دنیا مقابلہ کی دنیا ہے یہاں جو دے وہی پاتاہے، جو نہ دے اسے کچھ نہیں ملتا۔ یہ تقریر بر آدھ گھنٹہ کی تھی۔ اس کا ٹیپ لے لیا گیا ہے جو مرکز میں محفوظ ہے۔
مدرسہ مصباح العلوم (آسنصول) کی فرمائش پر صدر اسلامی مرکز نے ان کے سوینیر کے لئے
‹ Previous page Next page › Contents of June 1985 All issues