Al-Risala · July 1985 · page 7

جھوٹی عظمت

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۵، صفحہ ۷

جھوٹی عظمت

نپولین بونا پارٹ (۱۸۲۱ء - ۱۷۶۹ء) ایک فوجی افسر تھا۔ حالات سے فائدہ اٹھا کر وہ فرانس کی حکومت پر قابض ہو گیا۔ ۱۸۰۴ء میں اس نے فرانس کے حین حیاقی شہنشاہ ہونے کا اعلان کر دیا۔ نپولین نے فتوحات کا سلسلہ شروع کیا۔ یہاں تک کہ انگلینڈ کو چھوڑ کر وہ پورے یورپ کا فاتح بن گیا۔ اس نے فرانس کی ایک دلکش خاتون جوزفین (Josephine) سے شادی کی۔ مگر ۱۸۱۰ء میں اس نے جوزفین سے علیحدگی اختیار کرلی۔ کیونکہ وہ شہنشاہ یورپ کا جانشین پیدا کرنے میں ناکام رہی تھی۔

اس کے بعد نپولین نے آسٹریا پلینا کے بادشاہ کی لڑکی میری لوئی (Marie-Louise) سے شادی کی ۔ ۱۸۱۱ء میں اس کے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام اس نے فرانسس جوزف چارلس رکھا۔ نپو لین خوش تھا کہ اس نے اپنی بادشاہت کا تسلسل قائم رکھنے کے لئے اپنا ایک ولی عہد پالیا ہے۔ مگر اس کے جلد ہی بعد یہ یہ واقعہ ہوا کہ نپولین کی سیاسی حرص نے اس کو روس سے ٹھکرا دیا۔ روس کی فوجیں اگر چہ نپولین کی فوجوں کا مقابلہ نہ کر سکیں۔ تاہم روس کا جغرافیہ اس کی مدد پر آگیا۔ نپولین کی فوجیں روس کی شدید برف باری کی تاب نہ لاسکیں ۔ نپولین اس حال میں روس سے واپس آیا کہ اس کی فوج کا بڑا حصہ راستہ میں برباد ہو چکا تھا۔ یہ واقعہ ۱۸۱۲ء میں ہوا۔ بعد کے حالات اس کے لئے اور بھی ناموافق ثابت ہوئے۔ یہاں تک کہ ۱۸۱۵ء میں نپولین کو برطانی فوجوں کے مقابلہ میں شکست ہوئی۔ اس کو گرفتار کر کے جزیرہ سینٹ ہیلینا بھیج دیا گیا۔ یہاں ۱۸۲۱ء میں وہ قید کی حالت میں مر گیا۔

انسان اپنی اولاد تک کے لئے عظمت کا خواب دیکھتا ہے حالانکہ وہ خود بہت جلد بے عظمت ہو جانے والا ہے۔ اس دنیا میں ہر روز کوئی "نپولین" بے عظمت ہو کر مر رہا ہے۔ مگر کوئی نہیں جو اس سے سبق لے۔ کوئی نہیں جو اس کو اپنی زندگی کے لئے رہنما بنائے۔

موجودہ دنیا میں ہر انسان کو صرف محدود موقع دیا گیا ہے۔ مگر ہر انسان اپنے لئے لامحدود منصوبہ بناتا ہے۔ ہر شخص کی عظمت آخر کار یہاں خاک میں مل جاتی ہے ۔ ہر دیکھنے والا اس کو دیکھتا ہے مگر کوئی اس سے سبق نہیں لیتا۔ ہر آدمی اسی کہانی کو دوبارہ لکھنا چاہتا ہے جس کو اس کے پیش رو نے لکھنا چاہا تھا مگر وہ اس کو لکھنے میں ناکام رہا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1985 All issues

Printed page