Al-Risala · July 1985 · page 8

دین داری

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۵، صفحہ ۸

دین داری

دین داری اصل میں اپنی ذات کی سطح پر دین دار بننے کا نام ہے۔ اپنی اناکو کچلنا اور اپنے اندرون میں خدا کو بسانا وہ چیز ہے جو اسلام کا اصل مطلوب ہے۔ جب آدمی اپنے آپ میں جینے کے بجائے خدا میں جینے لگے۔ جب دنیا کے بجائے آخرت اس کا مقصود بن جائے جب پانے سے زیادہ کھونا اس کو محبوب نظر آتا ہو تو اس نے دین کو پایا ، اس نے اپنے خدا کے ساتھ اپنا تعلق قائم کیا۔ آدمی اکثر حالات میں باہر باہر جیتا ہے اس لئے وہ ایسے دین کو بہت جلد قبول کر لیتا ہے جو اس کو اپنے سے باہر کی زندگی میں کوئی مشغلہ دیتا ہو۔

جو دین لاؤڈ اسپیکر کی سطح پر چیخ پکار کا پروگرام دے ، جس دین میں آدمی کو جلسے اور جلوس کی سطح پر کارنامے دکھانے کا موقع ملتا ہو۔ جس دین میں سیر و سیاحت کی چاشنی موجود ہو۔ جس دین میں حکمرانوں سے نوک جھونک کرنے کا جواز ہاتھ آتا ہو۔ جو دین بحث و مناظرہ کی دلچسپیاں فراہم کرتا ہو۔ جس دین میں شامیانہ سجانے اور کھانے پینے کی دھوم مچانے کے مواقع ملتے ہوں۔ جس دین میں دوسروں کو گولی کا نشانہ بنا کر اس کی تڑپتی ہوئی لاش دیکھنے کا منظر نصیب ہوتا ہو۔ جس دین میں دوسروں کے پیسے پر مفت کی لیڈری قائم کرنے کے مواقع ہاتھ آتے ہوں۔ ۔۔ دین کی یہ تمام صورتیں دین کو اپنے سے باہر پانے کی صورتیں ہیں۔ اس لئے وہ لوگ بہت جلد ایسے دین کی طرف دوڑ پڑتے جو اپنے آپ کو بچائے ہوتے ہوں اور اپنے سے باہر دین کا ثبوت دے کر دین دار بننا چاہتے ہوں ۔

دین اپنے اندر سفر کرنے کا نام ہے۔ دین اپنے آپ کو انا نیت کے تخت سے اتارنا ہے۔ دین خود اپنے اندر جھانکنے کا نام ہے نہ کہ دوسروں کا ماہربننے کا۔ درخت اپنے آپ میں جیتا ہے، اسی طرح مومن اپنے آپ میں جیتا ہے۔ درخت اسی وقت درخت بنتا ہے جب کہ اس کی جڑیں زرخیز زمین میں قائم ہو جائیں۔ اسی طرح مومن ایک روحانی درخت ہے جو خدا کی زمین میں اگتا ہے۔ وہ زمین و آسمان سے ایمانی رزق لے کر بڑھتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ خدا کی دنیا تک پہنچ جاتا ہے جس کا نام جنت ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1985 All issues

Printed page