Al-Risala · July 1985 · page 9

خدا پرستی

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۵، صفحہ ۹

خدا پرستی

موجودہ دنیا میں زندگی گزارنے کی دو قسمیں ہیں۔ ایک خود رخی (Self oriented) زندگی۔ دوسری خدا رخی (God oriented) زندگی۔

آدمی یا تو خود پرست ہوگا یا خدا پرست۔ اس کا مرکز و محور اپنی ذات ہوگی یا خدا کی ذات۔ وہ یا تو اپنے رخ پر دوڑے گا یا خدا کے رخ پر ۔ زندگی کے بس یہی دو طریقے ہیں۔ ان کے سوازندگی کا کوئی تیسرا طریقہ نہیں۔

خود رخی زندگی وہ ہے جس میں آدمی کی توجہ کا مرکز صرف اس کی اپنی ذات ہو۔ وہ بس اپنے آپ میں جئے ۔ وہ اپنے وسائل کو اپنی ذات کی تکمیل میں خرچ کرے۔ فلسفیانہ زبان میں اس طرزِفکر کا نام ذاتی طرزِ فکر (Self-centered thinking) ہے ۔ اور اخلاقی زبان میں اس کو خود غرضی، بے اصولی، خواہش پرستی اور مفاد پسندی کہا جاتا ہے۔ ایسا آدمی دیکھنے میں بظاہر انسان ہوتا ہے ۔ مگر اندر سے وہ حیوان کی مانند ہوتا ہے۔ اس کے جینے کی سطح اور حیوانات کے جینے کی سطح میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔

خدا رخی زندگی وہ ہے جس میں آدمی کی توجہات کا مرکز صرف ایک خدا ہو۔ خدا کو وہ ایک ایسے بڑے کی حیثیت سے پالے جس کے بعد اپنی ذات سمیت سب کچھ اس کی نظر میں چھوٹا ہو جائے۔ اس کو یاد آئے تو خدا کی یاد آئے۔ اس کو امید ہو تو خدا سے امید ہو۔ اس کو ڈر ہو تو صرف خدا کا ڈر ہو ۔ خدا کی ذات اس کی نظر میں سب کچھ ہو اور اپنی ذات اس کی نظر میں بے کچھ۔ یہی دوسرا انسان خدا پرست انسان ہے ۔ وہ ایک حقیقت پسند انسان ہے کیوں کہ اس نے وہ روش اختیار کی ہے جو کائنات کے مجموعی نظام سے پوری طرح مطابقت رکھتی ہے۔ اس نے اس صحیح راستہ کو پا لیا ہے جس پر چلنے والا اس حقیقی منزل تک پہنچ جاتا ہے جس کے سوا خدا کی اس کائنات میں دوسری کوئی منزل نہیں۔

انسان کی منزل خدا ہے ۔ اس سے کمتر کوئی چیز انسان کی منزل نہیں ہوسکتی۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1985 All issues

Printed page