Al-Risala · July 1985 · page 90

جھوٹی دھوم

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۵، صفحہ ۹۰

جھوٹی دھوم

ٹائمز آف انڈیا (۳۰ مئی ۱۹۸۵) میں ہندوستانی شادیوں کے بارہ میں ایک سبق آموز رپورٹ شائع ہو ئی ہے۔ اس کا عنوان ہے : ہیلی کاپٹر بارات ( Copter Barat) اس میں بتایا گیا ہے کہ سوائی مادھوپور کی میا برادری میں خوش حالی کی علامت اب یہ بن گئی ہے کہ بارات دلہن کے گھر آئے تو ہیلی کاپٹر کے ذریعہ آئے ، خواہ دولھا کے گھر سے دلھن کے گھر تک کا فاصلہ اکلومیٹر ہی کیوں نہ ہو۔ اس سے پہلے شادیوں میں جہیز اور تلک کی دھوم تھی ۔ اب اس سے آگے بڑھ کر بمبئی کی ایک فرم نے ہیلی کاپٹر کرایہ پر حاصل کئے جارہے ہیں۔ شادیوں میں ہیلی کاپٹر کا استعمال کیوں کیا جارہا ہے ، اس کا جواب اخباری رپورٹر نے ان الفاظ میں دیا ہے :

The parents of the bride expect the ‘barat’ to reach their village with adequate pomp and show. دلھن کے والدین امید کرتے ہیں کہ بارات ان کے گاؤں میں دھوم دھام کے ساتھ آئے۔ انسان سمجھتا ہے کہ اس کی سواری کسی دولھا یا کسی دلھن کے گھر اترنے والی ہے۔ اس لئے وہ شان و شوکت کے ساتھ اپنی سواری لے جانے کا اہتمام کر رہا ہے۔ اگر انسان کو یہ معلوم ہو کہ اس کی سواری بالآخر جہاں پہنچنے والی ہے وہ مالک کائنات کی عدالت ہے تو انسان کی سوچ یکسر بدل جائے۔ اس کو معلوم ہو کہ شان والی شادی اور بے شان والی شادی میں کوئی فرق نہیں۔ کوئی شخص اپنی قتل گاہ کی طرف دھوم مچاتا ہو انہیں جاتا ۔ کوئی شخص ایک ایسی عدالت میں جشن کے ساتھ داخل نہیں ہوتا جہاں ایک با اختیار جج اس کے خلاف فیصلہ سنانے کے لئے بیٹھا ہوا ہو مگر اپنی آخری منزل کے بارہ میں ہر آدمی اسی نادانی میں مبتلا ہے۔ کامیاب انسان وہ ہے جس کی سواری خدا کے یہاں با عزت طور پر اتاری جائے۔ اور ناکام انسان وہ ہے جو خدا کے یہاں اس حال میں پہنچے کہ وہاں اس کی حیثیت ایک غیر مطلوب انسان کی ہو ۔ وہاں نہ کوئی اس کا استقبال کرنے والا ہو اور نہ کوئی اس کی جھر گیری کرنے والا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1985 All issues

Printed page