اہلیت
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۵، صفحہ ۱۱
اہلیت
ایک شخص اچھے خاندان میں پیدا ہوا۔ بعد کو اس کے حالات خراب ہو گئے۔ معاشی اعتبار سے وہ بالکل مفلس ہو کر رہ گیا۔ اس زمانہ میں اس کے تمام دوست اور رشتہ دار اس سے جدا ہو گئے۔ کوئی اس کا بھی روا دار نہ تھا کہ اس سے ملاقات اور سلام کلام کا تعلق رکھے ۔ پھر وہ وقت آیا کہ اس کے حالات بدل گئے۔ وہ اپنی بستی کا سب سے زیادہ خوش حال آدمی بن گیا۔ اب اس کے پرانے دوست اور رشتہ دار اس کے پاس آنے لگے۔ وہ اس کو یقین دلاتے کہ ہم تو ہمیشہ تمہارے خیر خواہ تھے۔ مگر آدمی پر ان لوگوں کی باتوں کا کوئی اثر نہ ہوا۔ اس نے ان میں سے کسی کی طرف کوئی توجہ نہ دی۔ البتہ ایک شخص جو ہر حال میں اس کا ساتھی بنا رہا۔ اس کو اس نے بہت بڑے پیمانہ پر نوازا۔ اس کو اس نے اپنا سب سے قریبی ساتھی اور مشیر کار بنا لیا۔
یہی معاملہ اللہ تعالیٰ کے یہاں بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے یہاں قابلِ قدر وہ ہے جو ناس موافق حالات میں قابلِ قدر ہونے کا ثبوت دے۔ جو دعوتِ حق کو اس وقت پہچانے جب کہ دعوتِ حق ماحول میں اجنبی بنی ہوئی ہو۔ جو دینِ خداوندی کے ساتھ ایسے حالات میں اپنے کو وابستہ کرے جب کہ دینِ ظاہرینوں کو بے قیمت نظر آتا ہو۔
اللہ تعالیٰ دلوں کو دیکھتا ہے نہ کہ جسموں کو ۔ اللہ کے یہاں حقیقت کی قدر ہے نہ کہ ظاہری دکھا دے کی۔ اللہ کو وہ بندے پسند ہیں جو اس وقت جھک گئے ہوں جب کہ اس کی قوتیں ابھی غیب میں چھپی ہوئی ہیں۔ اللہ کو وہ بندے درکار ہیں جن کی بصیرت کی نگاہیں کھلی ہوئی ہوں ۔ اللہ کو وہ بندے درکار نہیں جن کے اندھے پن کا یہ حال ہو کہ وہ پیشانی کی آنکھ سے دکھائی دینے والی چیزوں کے سوا کسی اور چیز کو دیکھ ہی نہ سکیں ۔
حقیقت یہ ہے کہ نہ دینے والے دور میں دئے جانے کا فیصلہ ہوتا ہے۔ پہچاننے والا وہ قرار پاتا ہے جس نے نہ پہچاننے والے حالات میں پہچاننے کا ثبوت دیا ہو۔ انعام کا مستحق وہ ہے جس نے اس وقت ساتھ دیا ہو جب کہ لوگوں نے اس کو غیر اہم سمجھ کر اسے نظر انداز کر دیا تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1985 All issues