جب پردہ کھلے گا
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۵، صفحہ ۱۲
جب پردہ کھلے گا
خدا کی طرف سے جتنے پیغمبر آئے ان سب کے ساتھ ایک ہی مشترک حادثہ پیش آیا۔ وقت کے اکابر نے ان کو نظر انداز کر دیا۔ جو لوگ ماحول کے اندر بڑائی کا مقام حاصل کئے ہوئے تھے انھوں نے ان کو قابل التفات نہیں سمجھا۔
وقت کے یہ اکابر سب کے سب وہ لوگ تھے جو خدا کو مانتے تھے۔ وہ اسیی کو بھی مانتے تھے کہ خدا کی طرف سے خدا کا پیغام دینے والا آتا ہے۔ حتیٰ کہ ان میں ایسے لوگ بھی تھے جو آنے والے پیغمبر خدا کا پہلے سے انتظار کر رہے تھے۔ وہ اس کی یاد میں پرجوش تقریریں کرتے تھے۔ مگر جب وہ آنے والا آیا تو انھوں نے اس کو نہیں پہچا ننا۔ انھوں نے حقارت کے ساتھ اس کو رد کر دیا۔ چونکہ وہ تقلید آباء کی سطح پر جی رہے تھے وہ صرف ان پچھلے پیغمبروں کو پہچان سکے جن کا نام ان کے آبائی مذہب میں شامل تھا۔ جو ان کی قومی تقلید کا حصہ بن چکا تھا۔ جو انھیں تاریخی روایات کے تسلسل میں مل رہا تھا۔ وقت کا پیغمبر ابھی ان اضافی خصوصیات سے خالی تھا اس لئے وہ ان کو دکھائی بھی نہیں دیا۔ وقت کے نمائندہ خدا کو پہچاننے کے لئے جو ہر شناسی کی صلاحیت درکار تھی اور یہ لوگ اس سے محروم تھے، پھر وہ وقت کے پیغمبر کو کس طرح پہچانتے۔
یہ سب کرتے ہوئے وہ مذہب کا جھنڈا بھی اٹھائے ہوئے تھے۔ وہ پچھلے پیغمبروں کا مومن ہونے پر فخر کرتے تھے۔ عوام کے درمیان وہ خدا کے دین کے سب سے بڑے حامی بنے ہو ئے تھے۔ مگر خدا کے یہاں وہ بالکل بے قیمت قرار پائے۔ کیوں کہ ان کا مذہب آباء کی تقلید کی سطح پر پیدا ہوا تھا نہ کہ حقیقت کے اعتراف کی سطح پر۔
آخرت میں جب ان پر کھلے گا کہ انھوں نے جس کو نظر انداز کیا وہی وہ تھا جس کی زبان سے خدا نے اپنا کلام جاری کیا تھا۔ جو دنیا میں خدا کا نمائندہ بنا کر کھڑا کیا گیا تھا تو یہی واقعہ ان کی ابدی روسیاہی کے لئے کافی ہوگا۔ وہ کہیں گے کہ ہائے ہمارا اندھا پن، ہم نے اس کو نہ دیکھا جس کو ہمیں سب سے زیادہ دیکھنا چاہئے تھا۔ ہم نے اس کو نہ پہچانا جس کو ہمیں سب سے زیادہ پہچانا چاہئے تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1985 All issues