Al-Risala · July 1985 · page 13

مشینی تعبیر

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۵، صفحہ ۱۳

مشینی تعبیر

جولائی ۱۹۸۳ میں امریکی بحریہ نے فوجی مشقیں کی تھیں۔ یہ فوجی مشقیں سان فرانسسکو کے ساحل پر ہوئیں۔ یہ پورا عمل کمپیوٹروں کے ذریعہ ہو رہا تھا۔ اس دوران میں بحریہ کے توپ خانہ کو فائر کرنا تھا فائرنگ کے دوران کمپیوٹر میں کچھ خرابی پیدا ہو گئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کمپیوٹر عقبی جانب گولے برسانے لگا۔ یعنی جس طرف ٹارگٹ مطلوب تھی اس کے بالکل الٹی طرف۔

ابتدائی پروگرام کے مطابق اس مشقی گولہ باری میں امریکی بحریہ کے توپ خانے کے گولے دور سمندر میں جاکر گرتے مگر توپوں کا رخ الٹا ہو جانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے گولے میکسیکو کے ایک مال بردار جہاز کے پاس جاکر گرنے لگے۔

کمپیوٹر میں اس طرح کے لطیفے بار بار پیش آتے ہیں جن کی اطلاع اخبارات و رسائل میں آتی رہتی ہے۔ کمپیوٹر کے عمل میں ایسی غلطیاں کیوں ہوتی ہیں۔ اس کی وجہ صرف ایک ہے۔ کمپیوٹر صرف ایک مادی مشین ہے۔ اس کے پاس عقل نہیں ہے۔ اس سے قیاس کیا جا سکتا ہے کہ کائنات اگر ایک مادی مشین ہوتی جیسا کہ جدید ملحدین کا دعویٰ ہے ، تو وہ کبھی اس طرح انتہائی درست طور پر نہ چل سکتی جیسا کہ وہ چل رہی ہے۔ ایسی حالت میں زمین اور اس کی آبادیاں اسی طرح بر باد ہو چکی ہوتیں جس طرح زلزلہ کے بعد زلزلہ کا مقام برباد ہو جاتا ہے۔ کائناتی حادثات کے نتیجہ میں کائنات بھی تباہ ہو چکی ہوتی اور وہ انسان بھی جو کائنات کی مادی تعبیر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

"کائنات کا کوئی خدا نہیں ، وہ صرف ایک مادی مشین ہے" یہ جملہ گزامر کے لحاظ سے بظاہر درست ہے مگر حقیقت کے اعتبار سے وہ درست نہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس کے اندر داخلی تضاد پایا جاتا ہے۔

یہ جملہ اس وقت صحیح ہوتا جب کہ ایسی کوئی مادی مشین ہوتی جو کسی بنانے والے کے بغیر بن جائے اور کسی چلانے والے کے بغیر چلنے لگے۔ ہم جن مشینوں سے واقف ہیں ان کو ” انسان “ بناتا اور چلاتا ہے۔ اس کے با وجود یہ حال ہے کہ یہ مشینین نقص سے خالی نہیں۔ پھر کیسے ممکن ہے کہ کائنات جیسا بے عیب کارخانہ اپنے آپ وجود میں آجائے اور اپنے آپ نہایت درست طور پر مسلسل چلتا رہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1985 All issues

Printed page