امتحان گاه
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۵، صفحہ ۱۴
امتحان گاه
قرآن وحدیث میں زندگی کا یہ تصور دیا گیا ہے کہ موجودہ دنیا میں کسی کو جو کچھ ملتا ہے وہ صرف بطور آزمائش ملتا ہے۔ وہ اس کا حق نہیں ہوتا۔ آدمی ان چیزوں سے صرف ایک مقررہ مدت تک فائدہ اٹھاتا ہے اس کے بعد موت آتی ہے اور اس کے ساز و سامان سے اسے جدا کر دیتی ہے۔ موت سے پہلے یہ چیزیں ہر ایک کو ملتی ہیں مگر موت کے بعد صرف اس کو ملیں گی جو آزمائش میں پورا اترے ۔ اس کو ایک مثال سے سمجھئے۔
ایک طالب علم امتحان کے کمرہ میں ہے۔ وہ اپنا تعلیمی امتحان دے رہا ہے۔ اس وقت بظاہر وہ ایک مکان میں ہے۔ اس کے پاس میز اور کرسی اور دوسرے ضروری سامان ہیں۔ اس کے خدمت گار بھی وہاں موجود ہیں۔
بظاہر دیکھنے والوں کو وہ صاحب ملک آدمی نظر آتا ہے۔ مگر یہ سب کچھ محض وقتی ہے ۔ جیسے ہی وقت پورا ہونے کا الارم بجتا ہے۔ اچانک معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اس کا کچھ بھی نہ تھا۔ ہر چیز جو وہاں اس کے پاس تھی اس سے واپس لے لی جاتی ہے اور وہ بلا تاخیر امتحان گھر کے باہر نکال دیا جاتا ہے۔ یہی معاملہ وسیع تر معنوں میں دنیا کا بھی ہے۔ یہ دنیا انسان کے لئے ایک خدائی امتحان گاہ ہے یہاں ہر آدمی صرف اس لئے ہے کہ وہ اپنا امتحان دے۔ خدا نے ہر آدمی کے لئے امتحان کی مدت مقرر کر رکھی ہے۔ جیسے ہی یہ مدت پوری ہوتی ہے ۔ فوراً موت کا فرشتہ آتا ہے اور آدمی کو بجبر اس دنیا سے نکل کر خدا کے سامنے حاضر کر دیتا ہے تاکہ ہر آدمی کو اس کے عمل کے مطابق اس کا بدلہ دیا جائے۔ موت کا لمحہ امتحان کی مدت ختم ہونے کا لمحہ ہے۔ جب یہ لمحہ آتا ہے تو آدمی جان لیتا ہے کہ ان چیزوں میں سے اس کا کچھ نہ تھا جن کو وہ اپنا سمجھے ہوئے تھا۔ جس مکان کو اس نے بنایا تھا وہ اس سے جدا کر دیا جاتا ہے۔ جس جائداد کو وہ اپنی چیز سمجھتا تھا وہ اس سے چھین لی جاتی ہے۔ جن آدمیوں کو وہ اپنے آدمی سمجھتا تھا وہ اس سے بچھڑ جاتے ہیں۔
یہ لمحہ ہر آدمی پر آنے والا ہے۔ خوش قسمت ہے وہ جو اس کے آنے سے پہلے اس کو جان لے جو آنے سے پہلے اس کی تیاری کر لے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1985 All issues