Al-Risala · July 1985 · page 15

امتحان گاه

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۵، صفحہ ۱۵

اعتراف

چارلس ڈارون (۱۸۸۲-۱۸۰۹) نے یہ نظریہ پیش کیا کہ انسان دوسرے حیوانات ہی کی ترقی یافتہ نسل ہے۔ یہ ایک بے حد عجیب نظریہ تھا۔ کیونکہ انسان انتہائی غیر معمولی حد تک دوسرے جانوروں سے مختلف ہے۔ پھر کیسے یہ ممکن ہوا کہ ایسا کا دماغ ترقی کرتے کرتے انسان کا دماغ بن جائے۔ یہ نظریہ اتنا بعید از قیاس تھا کہ ڈارون خود اپنے اس نظریہ کے بارہ میں حیرانی میں مبتلا ہو گیا۔ اس نے اپنی کتاب اصل الانواع (Origin of Species) کے آخر میں لکھا ہے:

Can the mind of man, which has, as I fully believe, been developed from a mind as low as that possessed by the lowest animals, be trusted when it draws such grand conclusions? I cannot pretend to throw the least light on such abstruse problems. انسان کا دماغ جس کے متعلق میرا کامل عقیدہ ہے کہ وہ اس معمولی دماغ سے ترقی کر کے بنا ہے جو انتہائی ادنی حیوانات کو حاصل ہوتا ہے۔ کیا ایسے دماغ پر اس وقت بھروسہ کیا جا سکتا ہے جب کہ وہ اتنے بڑے بڑے نتائج اخذ کر رہا ہو۔ میں یہ دکھانے کی جھوٹی کوشش نہیں کروں گا کہ میں اس قسم کے مسائل پر کچھ بھی روشنی ڈال سکتا ہوں۔

حقیقت یہ ہے کہ زندگی اور کائنات کی تشریح کا مسئلہ ناقابلِ قیاس حد تک بڑا مسئلہ ہے۔ کوئی انسان اپنی محدود عمر اور محدود صلاحیت کے ساتھ اس کی تشریح کا اہل نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ جو شخص بھی اس کی تشریح کرنے بیٹھتا ہے وہ ہمیشہ احساسِ عجز کا شکار رہتا ہے۔ خواہ اپنی زبان سے وہ اس کا اقرار کرے یا نہ کرے ۔

یہ واقعہ اس کا ثبوت ہے کہ زندگی اور کائنات کی حقیقت بتانے کے لئے انسانی دماغ سے برتر ایک دماغ درکار ہے۔ یہ کام صرف خدا کر سکتا ہے اور خدا نے پیغمبروں کے واسطہ سے اس کو انجام دیا ہے۔ یہ ایک قرینہ ہے جو پیغمبرانہ ہدایت کی ضرورت اور واقعیت کو ثابت کرتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1985 All issues

Printed page