Al-Risala · July 1985 · page 20

کمی کی تلافی

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۵، صفحہ ۲۰

کمی کی تلافی

قیصر ولیم دوم (Friedrich William II) ۱۸۸۸ سے لے کر ۱۹۱۸ء تک جرمنی کا بادشاہ تھا۔ اس کا بایاں بازو پیدائشی طور پر ناقص اور چھوٹا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے غیر معتدل مزاج کا سبب اس کا یہی عضویاتی نقص تھا۔

قیصر ولیم ہی کی غیر مدبرانہ سیاست کے نتیجہ میں پہلی جنگ (۱۹۱۸-۱۹۱۴ء) چھڑی۔ اس میں ایک طرف جرمنی اور اس کے ساتھی تھے اور دوسری طرف برطانیہ اور اس کے ساتھی۔ آخر کار جرمنی کو شکست ہوئی۔ اسی کے ساتھ ہی قیصر ولیم کی حکومت بھی ختم ہوگئی۔ قید یا قتل سے بچنے کے لئے اس نے اپنا ملک چھوڑ دیا۔ وہ ندرلینڈ چلا گیا۔ وہاں وہ دوم (Doom) میں خاموشی سے زندگی کے بقیہ دن گزارتا رہا۔ یہاں تک کہ ۴ جون ۱۹۴۱ء کو ۸۲ سال کی عمر میں مر گیا۔

پہلی جنگِ عظیم سے کچھ پہلے کا واقعہ ہے۔ قیصر ولیم دوم ایک سرکاری دورہ پر سوئٹزر لینڈ گیا۔ وہ یہ دیکھ کر بہت خوش ہوا کہ سوئٹزر لینڈ اگر چہ ایک چھوٹا ملک ہے مگر اس کی فوج بہت منظم ہے۔ اس نے ملاقات کے دوران سوئٹزر لینڈ کے ایک فوجی سے مزاحیہ انداز میں کہا کہ جرمنی کی زبردست فوج جس کی تعداد تمہاری فوج سے دگنی ہو، اگر تمہارے ملک پر حملہ کر دے تو تم کیا کرو گے۔ اعلیٰ تربیت یافتہ فوجی نے بڑی سنجیدگی سے جواب دیا :

سر، ہمیں بس ایک کے بجائے دو فائر کرنے پڑیں گے۔

سوئس فوجی کا یہ چھوٹا سا جملہ ایک بہت بڑی حقیقت کا اعلان ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وسائل اگر کم ہوں تو کار کردگی کی زیادتی سے آپ اس کی تلافی کر سکتے ہیں۔ آپ کی تعداد اگر فریق ثانی کی تعداد کا نصف ہے تو آپ دگنی محنت کا ثبوت دے کر زندگی کے میدان میں اس کے برابر ہو سکتے ہیں۔

زندگی کی جد و جہد میں کبھی کوئی آگے بڑھ جاتا ہے اور کوئی پیچھے ہو جاتا ہے۔ کوئی غالب ہو جاتا ہے اور کوئی مغلوب۔ مگر اس دنیا کے امکانات اتنے زیادہ ہیں کہ کبھی کسی کے لئے حد نہیں آتی۔ یہاں ہر پھیڑے ہونے کے لئے دوبارہ آگے بڑھنے کا امکان ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ آدمی زیادہ بڑی مقدار میں عمل کرنے کے لئے تیار ہو جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1985 All issues

Printed page