کمی کی تلافی
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۵، صفحہ ۲۱
ایک حدیث
عن ابی ذر رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلّی حضرت ابو ذر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ اللہ علیہ : انی اریٰ ما لا ترون و اسمع ما لا تسمعون وسلم نے فرمایا ۔ میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور اطّت السّماء وحُقّ لها ان تَطِئ ۔ ما فيها موضع میں وہ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے۔ آسمان میں چرچراہٹ اربع اصابع الّا و مَلكٌ واضع جبهته ساجداً ہو رہی ہے اور اس کے لئے حق ہے کہ اس میں لله تعالى ۔ واللہ لو تعلمون ما اعلم لضحكتم چرچراہٹ ہو۔ آسمان میں کوئی چار انگل جگہ بھی قليلا ولبكيتم كثيرا وما تلذذتم بالنساء نہیں مگر یہ کہ وہاں ایک فرشتہ اپنی پیشانی جھکائے ہوئے علی الفرش۔ ولخرجتم الى الصعدات تجأرون اللہ کو سجدہ کر رہا ہے ۔ خدا کی قسم اگر تم وہ جانتے جو میں الی الله تعالیٰ ۔ جانتا ہوں تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ۔ اور البتہ وفي رواية ان ابا ذر قال ، لووددت انی پر تمہارے لئے عورتوں میں لذت نہ رہ جاتی۔ اور كنت شجرة تُعضد (ترمذی ، ابن ماجه ، احمد) تم خدا کو پکارتے ہوئے میدانوں کی طرف نکل جاتے۔ ایک روایت کے مطابق، حضرت ابو ذر نے یہ بیان کرنے کے بعد کہا : میری تمنا ہے کہ میں ایک درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا۔
اس حدیث میں پیغمبر کا جو حال بتایا گیا ہے وہی داعی کا حال ہوتا ہے۔ اس فرق کے ساتھ کہ اس کیفیت میں آخری کمال کے درجہ پر ہوتا ہے اور عام داعی اپنی اپنی استعداد کے درجہ پر۔ خدا کا داعی وہی شخص بن سکتا ہے جس کی معرفت اتنی بڑھی ہوئی ہو کہ غیب اس کے لئے شہود کا حاصل کرلے۔ جو اپنے تصور کی آنکھ سے ان چیزوں کو آج ہی دیکھ لے جن کو موت کے بعد ہر آدمی اپنی پیشانی کی آنکھ سے دیکھے گا۔
لوگ عالم ظاہر میں الجھے ہوئے ہیں پھر وہ عالم غیب کی خبر دینے والے کیسے بن سکتے ہیں ۔ لوگ نز سے دور ہیں پھر کیسے ممکن ہے کہ ان کی زبان سے معانی کا وہ چشمہ جاری ہو جو خدا سے قریب ہونے کے ہی کسی کو حاصل ہوتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1985 All issues