کمی کی تلافی
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۵، صفحہ ۲۲
۔ یہی موجودہ زمانہ میں ہمارے مسئلہ کا آغاز ہے اور یہی ہمارے مسئلہ کا اختتام بھی۔ لوگوں کو مندروں اور گرجاؤں کی گھنٹیاں اس لئے سنائی دیتی ہیں کہ ابھی صور اسرافیل کی چنگھاڑ ان کے کان کے پردے نہیں پھٹے ۔ سڑک پر انسانوں کا جلوس ان کو اس لئے دکھائی دیتا ہے کہ فرشتوں کی فوج نے ابھی ان کی آنکھوں کو خیرہ نہیں کیا۔ معاشی اور سیاسی امتیاز کی شکایت لوگ اس لئے کر رہے ہیں کہ قیامت کے اس ہولناک دن سے ابھی تک وہ باخبر نہیں ہوئے جب کہ خوراک کا ایک دانہ نہیں ہوگا جس کو لوگ کھائیں اور پانی کا ایک قطرہ نہیں ہوگا جس سے لوگ اپنے حلق کو ٹھنڈا کریں۔
لوگ انسان کے چھیڑے ہوئے مسائل میں گم ہیں ، اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ لوگوں کو خدا کے چھیڑے ہوئے مسائل کی خبر نہیں۔ لوگ الفاظ کا کمال دکھا رہے ہیں، صرف اس لئے کہ وہ ابھی تک معانی کی گہرائیوں سے آشنا نہیں ہوئے۔ لوگ چھوٹے چھوٹے معاملات میں الجھے ہوئے ہیں کیوں کہ بڑے سے بڑے معاملات کو ابھی تک انھوں نے جانا ہی نہیں۔ آہ وہ انسان جو جانتا ہے کہ وہ جانتا ہے۔ حالانکہ وہ ابھی تک یہ بھی نہیں جانتا کہ وہ نہیں جانتا۔
داعی بننے کے لئے پیغمبر کے مقام پر کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ یہ اس عظیم مقصد کے لئے اٹھنا ہے جس کے لئے فرشتے اترے اور کت ہیں نازل کی گئیں۔ یہ کوئی قومی لیڈری نہیں، یہ انسان کی سطح پر خدا کی نمائندگی ہے۔
داعی بننے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ آدمی اپنے ذاتی تقاضوں کو بھول جائے ۔ وہ قومی خواہشات کو نظر انداز کر دے۔ وہ ہر دوسرے جھگڑے اور مطالبے سے اپنے آپ کو اوپر اٹھا لے۔ وہ انسانوں کا خیر خواہ بنے ، خواہ لوگ اس کو گالیاں دیتے ہوں۔ وہ قوموں کی ہدایت کے لئے نہڑ پلے، خواہ قوموں نے اس کے اوپر ظلم کا آہرہ چلا رکھا ہو۔ اس کو دوسروں کے لئے سراپا رحم بننا پڑتا ہے تاکہ خدا اس کے لئے سراپا رحم بن جائے۔
دعوت کی لازمی شرط صبر ہے۔ دنیا میں داعی اور مدعو کے درمیان طرح طرح کے مادی جھگڑے ہوتے ہیں۔ مگر داعی کو بلا شرط تمام مادی جھگڑوں کو ختم کرنا پڑتا ہے تاکہ مدعو اس کے دینی پیغام کو سنے۔ اس کو یک طرفہ طور پر تمام نقصانات پر راضی ہونا پڑتا ہے تاکہ وہ دوسروں کو فائدہ پہنچانے والا بن سکے۔ خلاصہ یہ کہ اس کو دنیا کی آگ میں جلنا پڑتا ہے تاکہ خدا اس کو آخرت کی آگ سے بچالے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1985 All issues