Al-Risala · July 1985 · page 23

طلاق کا مسئلہ

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۵، صفحہ ۲۳

طلاق کا مسئلہ

خاندان ایک بے حد پیچیدہ مجموعہ ہے۔ خاندانی زندگی کا نظام مختلف اور متنوع پہلوؤں کے درمیان تناسب قائم کرنے سے وجود میں آتا ہے۔ اس تناسب میں اگر معمولی فرق پڑ جائے تو پورا مجموعہ بگڑ کر رہ جائے گا۔

اس کی ایک مثال مغرب کے وہ قوانین ہیں جو نکاح اور طلاق کے روایتی نظام میں اصلاح کے نام پر بیسویں صدی میں بنائے گئے۔ ان قوانین میں سے ایک یہ تھا کہ اگر کوئی مرد اپنی بیوی کو طلاق دے تو مطلقہ بیوی کو اسے بھاری رقم دینی پڑے گی ، حتیٰ کہ اس کی آخر عمر تک اس کا گزارہ بھی اسے ادا کرنا ہوگا ۔ یہ قانون بظاہر عائلی زندگی میں اصلاح کی خاطر بنایا گیا تھا مگر وہ مغرب کے لیے الٹا پڑا۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ بیوی کو طلاق دینے کی صورت میں انہیں اس کی بہت بڑی قیمت دینی پڑتی ہے تو لوگوں میں نکاح کے خلاف رجحان پیدا ہو گیا ۔ عورت اور مرد نکاح کے بغیر ایک ساتھ رہنے لگے۔ چنانچہ مغرب کی جدید نسل میں ۵۰ فی صد سے زیادہ وہ لوگ ہیں جو غیر منکوحہ بیویوں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ برٹرینڈ رسل ایک انتہائی ذہین اور اعلیٰ تعلیم یافتہ انگریز تھا۔ اس نے ایک کے بعد ایک تین شادیاں کیں۔ مگر ذہنی موافقت نہ ہونے کی وجہ سے تینوں کو طلاق دینا پڑا ۔ یہ طلاق اس کو بہت مہنگا پڑا۔ طلاق کے بعد اس کو اپنی بیویوں کو جو رقم ادا کرنی پڑی اس نے اس کی معاشیات کو برباد کر دیا۔ وہ اپنی سوانح عمری میں لکھتا ہے :

... the financial burden was heavy and rather disturbing: I had given £ 10,000 of my Nobel Prize cheque for a little more than £ 11,000 to my third wife, and I was now paying alimony to her and to my second wife as well as paying for the education of my younger son. Added to this, there were heavy expenses in connection with my elder son's illness; and the income taxes which for many years he had neglected to pay now fell to me to pay. Bertrand Russell, Autobiography, Unwin Paperbacks (London), 1978, pp. 563-64 مالیاتی بوجھ میرے اوپر بہت بھاری اور پریشان کن تھا۔ مجھے اپنے نوبیل انعام کے گیارہ ہزار پاؤنڈ میں سے دس ہزار پاؤنڈ اپنی تیسری بیوی کو دے دینا پڑا ۔ اور اب میں اس کو اور اپنی دوسری بیوی کو نان نفقہ کی رقم بھی ادا کر رہا تھا اور اسی کے ساتھ اپنے چھوٹے بچے کی تعلیم کی ادائیگی بھی میرے ذمہ تھی۔ مزید اضافہ یہ کہ میرے بڑے لڑکے کی بیماری کے سلسلہ میں بھی بھاری اخراجات تھے ۔ اور اس کا کئی سال کا انکم ٹیکس جو وہ ادا نہیں کر سکا تھا وہ بھی مجھ ہی کو

‹ Previous page Next page › Contents of July 1985 All issues

Printed page