اسلام کا قانون
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۵، صفحہ ۲۴
ادا کرنا پڑا۔
مطلقہ بیویوں کو بھاری ادائیگی برٹرینڈ رسل کے لیے اتنی مہنگی پڑی کہ اسی کے بعد اس نے نکاح کا طریقہ چھوڑ دیا۔ اس کے بعد بھی اگر چہ مستقل طور پر ایک عورت اس کے ساتھ رہی جس کو وہ اپنی آٹو با گرافی میں ” میری بیوی“ (My wife) کہتا ہے ۔ مگر اس کی یہ بیوی غیر منکوحہ تھی ۔ اپنی بعد کی زندگی میں وہ غیر منکوحہ عورت کا شوہر بنارہا ( صفحہ ۵۶۳)
اسلام کا قانون
خاندان یا نکاح و طلاق کے بارہ میں اسلام کا قانون زندگی کے مختلف پہلوؤں کی مناسب رعایت پر مبنی ہے۔ اسلام ہر پہلو کی پوری رعایت کرتا ہے، مگر اس طرح نہیں کہ ایک پہلو کی رعایت کرتے ہوئے دوسرا پہلو مجروح ہو جائے۔
عورت اور مرد جب نکاح کے رشتے میں منسلک ہوتے ہیں تو اسی نیت سے منسلک ہوتے ہیں کہ وہ مستقل طور پر اس کو نبھائیں گے۔ مگر مختلف اسباب سے دونوں یا کسی ایک کو کبھی علیحدگی کا نا خوش گوار فیصلہ کرنا پڑتا ہے ۔ ایسے موقع کے لیے اسلام نے واضح احکام دیے ہیں ۔ ان احکام کا مدعا یہ ہے کہ رشتہ کی علیحدگی خوش گواری کے ساتھ ہو۔ اس کے ساتھ ایک ضروری مدت تک شوہر اپنی مطلقہ بیوی کے گزارہ کا ذمہ دار رہے۔ عام حالات میں تقریبا تین مہینہ تک اور حاملہ ہونے کی صورت میں کسی قدر لمبی مدت تک ۔
اس مدت کے ختم ہونے کے بعد مرد کے اوپر مطلقہ بیوی کے نان نفقہ کی ذمہ داری نہیں رہتی۔ یہ اصول مرد کے اوپر ایسا غیر فطری بوجھ نہیں ڈالتا کہ وہ نکاح کے طریقہ کو ناقابل برداشت بوجھ سمجھ لے اور غیر اخلاقی طریقے اختیار کرنے لگے۔
یہ اصول بعض مستثنیٰ حالات میں کسی عورت کے لیے تکلیف دہ ہو سکتا ہے ۔ مگر یہ استثنائی حالت ہے نہ کہ عمومی حالت ۔ اور یہ قانون سازی کا مسلمہ اصول ہے کہ عام قانون ہمیشہ عام حالت کی بنیاد پر بنتا ہے استثنائی حالت کی بنیاد پر کبھی عمومی قانون نہیں بنایا جاتا ۔
قانون کسی بھی انداز سے بنایا جائے، اس میں ہمیشہ استثنا ءکی گنجائش رہتی ہے جس کو دوسرے طریقے سے حل کیا جاتا ہے ۔ مطلقہ عورت کے بارے میں بھی استثنائی کیس کو اس کی انفرادی حیثیت میں دیکھا جائے گا اور اخلاقی یا سماجی سطح پر اس کو حل کرنے کی کوشش کی جائے گی ، جیسا کہ دوسرے تمام استثنائی معاملات میں ساری دنیا میں کیا جاتا ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1985 All issues