اسلام کا قانون
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۵، صفحہ ۲۵
سہی لنان اورنگ زیب عالم گیر کا واقعہ ہے۔ ایک مرتبہ انھوں نے کسی امام کے پیچھے نماز پڑھی۔ امام نے بھول کر پہلی رکعت میں قل اعوذ برب الناس پڑھ دی۔ قل اعوذ برب الناس قرآن کی آخری سورہ ہے، اور نماز کے لیے حکم ہے کہ اگلی رکعت میں آگے کی سورہ پڑھی جائے نہ کہ پیچھے کی سورہ۔ اب امام صاحب کے سامنے سوال یہ تھا کہ اگلی رکعت میں وہ قرآن سے کیا پڑھیں ۔ امام صاحب جب اگلی رکعت میں کھڑے ہوئے تو انھوں نے سورہ الم کا ابتدائی حصہ پڑھا۔ اس طرح قرآن کی ترتیب باقی رہی کیونکہ آدمی جب قرآن کو پڑھتے ہوئے سورہ قل اعوذ برب الناس تک پہنچتا ہے تو وہ دوبارہ قرآن کے ابتدائی مَنْ بَابٍ عَانَ يُورث رِزَقاً تَقْتَرُ عَلَيْنِ حصے سے پڑھنا شروع کرتا ہے۔
اور رنگین نسخے سے مطالعہ کرتا ہے تو مندرجه بالا پنجاب کے بارے میں دبران سے ، ا۔ سرخرو ہو چکے ہیں ، نماز کے بعد ان کا جو حصہ صاف الماری، اورنگ زیب عالمگیر امام صاحب کی ذہانت سے بہت خوش ہوئے۔ نماز کے بعد ان کی حوصلہ افزائی اور ان کا عہدہ بڑھا دیا۔
بعض مرتبہ ایک چھوٹا سا واقعہ آدمی کی شخصیت کا تعارف بن جاتا ہے۔ وہ بتا دیتا ہے کہ آدمی مبنی ہے یا زمین۔ وہ جوہر والا ہے یا بے جوہر والا۔
اسی سے اس حدیث کو سمجھا جا سکتا ہے جس میں ارشاد ہوا ہے کہ بعض اوقات آدمی کا چھوٹا سا عمل اس کے لئے بڑے بڑے انجام کا سبب بن جاتا ہے۔ امام بخاری کی روایت کے مطابق اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں :
عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال ، ان العبد لیتکلم بالکلمۃ من رضوان اللہ تعالی ما یُلقی لھا بالا یرفعہ اللہ بھا درجات ، وان العبد لیتکلم بالکلمۃ من سخط اللہ تعالی لایلقی لھا بالاً نیھوی بھا فی جھنم حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، بندہ اللہ کی رضا کا کلمہ کہتا ہے۔ وہ اس کو کوئی اہمیت نہیں دیتا مگر اللہ اس کی وجہ سے اس کے درجات بلند کر دیتا ہے ۔ اور بندہ اللہ کی ناراضگی کا ایک کلمہ کہتا ہے ۔ وہ اس کو کوئی اہمیت نہیں دیتا اور اس کی وجہ سے اللہ اس کو جہنم میں ڈال دیتا ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1985 All issues