حکمت کی بات
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۵، صفحہ ۲۶
حکمت کی بات
امام ابوداؤد (۲۰۲-۲۷۵ھ) قندھار کے قریب سجستان کے رہنے والے تھے۔ وہ امام احمد بن حنبل کے شاگردوں میں سے تھے۔ ان کا قول ہے کہ میں نے طویل اسفار کے بعد پانچ لاکھ حدیثیں لکھیں ان میں سے چار ہزار آٹھ سو حدیثوں کو منتخب کر کے سنن ابی داؤد میں درج کیا۔ تا ہم امام موصوف نے لکھا ہے کہ آدمی اگر ان میں سے چار حدیثوں کو پکڑ لے تو وہ اس کے دینی فہم کے لئے کافی ہو جائے، انما الاعمال بالنيات من حسن اسلام المرء تركه ما لا يعنيه لا یکون المومن مومنا حتى يرضى لاخيه ما يرضاه لنفسه الحلال بيّن والحرام بيّن وبين ذالك امور مشتبهات فمن اتقى الشبهات استبرأ لدينه عمل کا دار و مدار نیت پر ہے۔
بہتر اسلام یہ ہے کہ آدمی بے فائدہ بات بولنا چھوڑ دے کوئی مسلمان اس وقت تک مسلمان نہیں ہوتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی کے لئے وہی چیز پسند کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔
حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان شبہہ کی چیزیں ہیں جو شخص شبہات سے بچا اس نے اپنے دین کو بچا لیا۔
امام ابو داؤد کے نہایت قیمتی اقوال ہیں ۔ ان میں سے چند یہ ہیں : الشهرة الخفية حب الرياسة خير الكلام ما دخل الاذن بدون اذن من اقتصر على لباس دون و مطعم دون اراح جسده ا را اگ آدم ک ان ز گ گ ا درکرسات هداسی پوشیدہ شہوت یہ ہے کہ آدمی سرداری کو پسند کرنے لگے۔ بہترین بات وہ ہے جو کان میں بلا اجازت داخل ہو جائے ۔ جس شخص نے کمتر لباس اور کمتر کھانے پر قناعت کی اس نے اپنے جسم کو آرام پہنچایا۔
برتری و سرداری باعثِ حقیقت کو کون نہ لگے گا۔ نہ کہلائیے۔ ایمان اگر آدمی کے اندر گہرائی کے ساتھ پیدا ہو جائے تو وہ ساری اہمیت صرف حقیقت کو دینے لگے گا۔ بے فائدہ باتوں سے اسے دلچسپی نہ رہے گی۔ اپنے اور غیر کا فرق اس کی نظر میں ختم ہو جائے گا۔ اس کی حساسیت اتنی بڑھ جائے گی کہ وہ شبہہ کی چیزوں سے بھی بچنے لگے گا۔ اور اپنے کو بڑا بنانے کا جذبہ اس کے اندر باقی نہ رہے گا۔ وہ ایسی بات بولے گا جو سیدھی لوگوں کے دلوں تک پہنچے۔ اس کی زندگی بالکل سادہ زندگی بن جائے گی۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1985 All issues