Al-Risala · July 1985 · page 27

اکابر قوم

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۵، صفحہ ۲۷

اکابر قوم

قدیم مکہ کے لوگوں نے محمد بن عبد اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اس سے کم سمجھا کہ خدا انھیں اپنے پیغام کی پیغام بری کے لئے چنے۔ چنا نچہ انھوں نے آپ کو پیغمبر ماننے سے انکار کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ خدا کا کلام اگر اترنا تھا تو وہ مکہ یا طائف کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہیں اتراد (وقالوا لولا نزل هذا القرآن على رجل من القر یتین عظيم، الزخرف ۳۱)

دو بڑے آدمیوں سے ان کی مراد مکہ کے ولید بن مغیرہ اور طائف کے عروہ بن مسعود ثقفی سے تھی۔ (تفسیر ابن کثیر، الجزء الرابع، صفحہ ۱۲) تاریخ کی کتابوں میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد طائف کا محاصرہ کیا۔ مگر محاصرہ فیصلہ کن ثابت نہ ہو سکا۔ چنانچہ آپ محاصرہ ختم کر کے مدینہ کی طرف روانہ ہو گئے۔

اس وقت مذکورہ عروہ بن مسعود کے دل میں اللہ تعالیٰ نے اسلام کی حقیقت ڈال دی ۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے روانہ ہوئے۔ یہاں تک کہ مدینہ پہنچنے سے پہلے آپ سے جا ملے ۔ انھوں نے اسلام قبول کر لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کی اجازت مانگی کہ وہ اپنی قوم میں واپس جائیں اور ان کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کریں۔ آپ نے فرمایا کہ وہ تم سے جنگ کریں گے۔ عروہ نے کہا کہ اے خدا کے رسول میں ان کا سردار ہوں اور وہ مجھ کو اپنی آنکھ سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں (انا حب اليهم من ابصارهم وكان مطاعاً فيهم)

چنانچہ وہ طائف واپس آئے۔ انہوں نے طائف والوں کو جمع کیا اور ایک اونچے مقام پر کھڑے ہو کر اپنے اسلام کا اعلان کیا اور لوگوں کو اسلام کی طرف بلایا۔ اس کے جواب میں لوگوں نے یہ کیا کہ ہر طرف سے ان کو تیروں سے مارنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ ایک تیر ان کے نازک مقام پر لگا اور وہ ہلاک ہو گئے۔ (مکاتیب الرسول، تالیف علی بن حسینعلی الاحمدی، صفحہ ۲۷۰)

قوم کے اکابر در اصل قوم کا ساتھ دینے کی وجہ سے اکابر بنتے ہیں۔ اگر وہ قوم کی خواہشوں کا ساتھ نہ دیں تو قوم انھیں رد کر دے بلکہ وہ انھیں ہلاک کر ڈالے۔ عروہ بن مسعود حق کا ساتھ دینے سے پہلے اکابر درجہ رکھتے تھے، حق کا ساتھ دیتے ہی وہ اصاغر میں شمار کئے جانے لگے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1985 All issues

Printed page