تیسرا سفر
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۵، صفحہ ۳۵
میرے ایک سوال کے جواب میں ایک صاحب نے کہا کہ اقبال نے نہ صرف پاکستان کا نظریہ پیش کیا۔ بلکہ ان کی شاعری نے بالواسطہ طور پر اس کا ذہن بنایا۔ ایک انگریزی اخبار میں ایک اشتہار دیکھا۔ اس میں تین تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ سب سے اوپر علامہ اقبال کی تصویر۔ اس کے نیچے مسٹر جناح کی۔ اس کے نیچے لیاقت علی خاں کی۔ تینوں تصویروں کے سامنے بالترتیب یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے: He thought He fought He Sacrificed میں نے ایک صاحب سے پوچھا کہ پاکستان میں اسلام کی کون سی خصوصیت نسبتاً زیادہ زندہ ہے۔ انھوں نے فوراً کہا ”عید میلاد النبی“ ہر سال یہاں کے مسلمان اتنی دھوم سے اور ایسے عجیب عجیب طریقے سے میلاد النبی کا جشن مناتے ہیں جس کو صرف دیکھ کر ہی سمجھا جا سکتا ہے۔ اس کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اس پر کروڑوں روپے خرچ کئے جاتے ہیں۔ جشن اور دھوم اور ہنگاموں والا اسلام آج دنیا بھر کے مسلمانوں پر اتنا چھایا ہوا ہے کہ وہ خاموشی والا اسلام جانتے ہی نہیں۔
۲۵ مارچ کو مولانا منظر حسین ندوی مظفر آبادی (۶۲ سال) سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے اپنی زندگی کے کچھ واقعات سنائے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ کئی برس تک دہلی میں کا شف العلوم میں مقیم رہے ہیں۔ ۱۹۴۲ میں وہ دیو بند گئے۔ وہاں وہ مولانا حسین احمد مدنی کے درس حدیث میں شریک ہوئے۔ بخاری کا درس ہورہا تھا۔ درس ختم ہوا تو ایک طالب علم نے سوال کیا کہ سید ابو الا علیٰ مو دودی نے جماعت اسلامی کے نام سے ایک جماعت بنائی ہے۔ اس جماعت کا مقصد اسلامی نظام قائم کرنا ہے۔ آپ کی رائے اس جماعت کے بارہ میں کیا ہے۔ مولانا مدنی نے جواب دیا:
کانگریس اور جمعیۃ علماء ہند کو چھوڑ کر جو کوئی بھی جماعت ہندوستان میں بنے گی وہ اس ملک میں انگریزوں کے قدم مضبوط کرنے والی ثابت ہوگی۔
میں نے مولانا منظر حسین ندوی سے پوچھا کہ اس جملہ سے مولانا مدنی کا مقصد کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے اس سے جو بات سمجھی وہ یہ تھی کہ دوسری بنیادوں پر جماعت بنانے سے مسلمانوں کی توجہ بٹ جائے گی اور انگریزوں کے خلاف جو سیاسی جدوجہد جاری ہے وہ کمزور پڑ جائے گی۔
پاکستان میں اگر چہ مارشل لا نافذ ہے۔ مگر یہاں کا مارشل دوسرے ملکوں کے مارشل سے کافی
‹ Previous page Next page › Contents of July 1985 All issues