Al-Risala · July 1985 · page 39

تیسرا سفر

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۵، صفحہ ۳۹

بیان پڑھا تھا جس کی سرخی یہ تھی :

جماعت اسلامی پیش کش ہونے پر بھی حکومت میں شامل نہیں ہوگی۔

میں نے میاں طفیل محمد صاحب سے اس بیان کا ذکر کرتے ہوئے پوچھا کہ آپ لوگوں نے ایسا فیصلہ کیوں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے ہم نے تجربہ کر کے دیکھ لیا۔ موجووہ حالات میں شرکت حکومت کا کوئی فائدہ نہیں۔

جماعت اسلامی نے پاکستان کی مرکزی اسمبلی کے لئے ۶۱ امیدوار کھڑے کئے تھے۔ ان میں رکن اور متفق کو ملا کر صرف آٹھ کامیاب ہوئے۔ میں نے کہا کہ اس سے پہلے آپ حضرات اپنی انتخابی شکست کا ذمہ دار دھاندلی کو بتاتے تھے۔ اس بار خود آپ کی پسندیدہ حکومت نے الیکشن کرایا ہے اور آپ کو الیکشن لڑنے کا سب سے زیادہ موقع ملا ہے پھر آپ کو شکست کیوں ہوئی۔ میاں طفیل محمد نے بڑا عجیب جواب دیا۔ انہوں نے یہ تسلیم نہیں کیا کہ جماعت اسلامی پاکستان کو موجودہ الیکشن میں شکست ہوئی ہے۔ مسلمانعرہں کی پر فخر نفسیات نے انہیں اس عجیب و غریب خوش قسمتی سے ہم کنار کیا ہے کہ وہ اپنی شکست کو بھی اپنی فتح کے خانہ میں ڈال سکیں۔

کچھ لوگ سندھ سے آتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ میری کتابوں کا سندھی زبان میں ترجمہ : کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ میں تیزی سے کمیونزم کا سیلاب آرہا ہے۔ ان کو اولا پنجابیوں سے بیزاری ہوئی اور اس کے بعد وہ اسلام سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ پنجاب سے بیزاری کی ایک مثال انھوں نے یہ دی کی کہ پی آئی اے (پاکستان انٹرنیشنل اییرویز) کو دہ پنجاب انٹرنیشنل اییرویز کہتے ہیں۔ کمیونزم اور الحاد کی کاٹ کے لئے وہ میری کتابوں کو سندھی زبان میں منتقل کرنا چاہتے ہیں۔

میں نے کہا کہ میرے اندازہ کے مطابق یہ مسئلہ عقیدہ کا نہیں بلکہ مفادات کا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ مختلف اسباب سے وہ پنجابیوں سے پیچھے ہو گئے ۔ فوائد کی تقسیم میں انھیں کم حصہ ملا اور پنجابیوں کو زیادہ ۔ اس کی وجہ سے ان کے اندر رد عمل پیدا ہوا۔ اپنے رد عمل کے اظہار کے لئے انھیں اسلام کا نو زیادہ مفید مطلب نظر نہیں آیا۔ چنانچہ کمیونزم کو اپنے لئے زیادہ مفید مطلب سمجھ کر انھوں نے کمیونزم کا نعرہ اختیار کر لیا۔ انہوں نے میرے اس نقطہ نظر کی تصدیق کی۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1985 All issues

Printed page